اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 43 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 43

43 الاسلام ہائی سکول کے لڑکوں کا حصہ تھا۔اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں بھی اس کام میں اُن کے ساتھ شامل ہوا تھا۔اور بعد میں صاحبزادہ صاحب کے جنازہ میں بھی شامل ہوا۔جنازہ کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام قبر سے تھوڑے فاصلہ پر بیٹھ گئے اور صاحبزادہ صاحب مرحوم کے متعلق اپنے الہامات اور پیشگوئیوں کا ذکر فرماتے رہے۔’۱۹۰۷ء کے جون یا جولائی میں حضرت خلیفہ امسیح اول رضی اللہ عنہ نے ایک کارڈ میرے والد صاحب کو لکھا۔جس کا مضمون صرف اتنا ہی تھا کہ آپ اپنے بیٹے کی اب بیعت کرا دیں۔میں نے وہ کارڈ پڑھ لیا۔اور شاید والد صاحب کو بھی یہ علم ہوگا کہ وہ کارڈ میری نظر سے گذر چکا ہے۔انہوں نے اس بات کا مجھ سے کوئی ذکر نہیں کیا۔اور نہ مجھ سے خصوصیت سے کہا کہ تم بیعت کرلو لیکن یہ ان کو یقینی طور پر علم تھا کہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر رنگ میں احمدی تھا۔جب ستمبر ۱۹۰۷ء میں میں والد صاحب کے ساتھ قادیان آیا تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد کی تعمیل میں میں نے خود ہی ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور یہ ۶ ار ستمبر ۱۹۰۷ء کا دن تھا۔* اسی سال میں نے انٹرنس کا امتحان پاس کیا تھا۔اور گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہو چکا تھا۔چنانچہ مئی ۱۹۰۸ ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آخری دفعہ لاہور تشریف لے گئے تو میں ان دنوں لاہور میں ہی تھا۔ان ایام میں بھی حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونے کا مجھے شرف حاصل ہوتا تھا۔۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو دوپہر کے وقت میں اپنے کمرہ ہوٹل میں سویا ہوا تھا کہ شیخ تیمور صاحب بڑی جلدی اور گھبرا ہٹ کے ساتھ تشریف لائے اور میرے پاؤں کو ہلا کر کہا کہ جلدی اٹھو اور میرے کمرہ میں آؤ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہو گئے ہیں۔چنانچہ میں فوراً اُٹھ کر اُن کے کمرہ میں گیا۔اور ہم نے کالج اور ہوسٹل سے چھٹی وغیرہ لینے کا انتظام کیا تا کہ حضور کے جنازہ کے ساتھ قادیان جاسکیں۔یہ انتظام کر کے ہم احمد یہ بلڈنکس پہنچ گئے۔اور پھر حضور کے جنازہ کے ساتھ ہی تاریخ وفات صاحبزادہ مبارک احمد صاحب ۱۶ رستمبر ۱۹۰۷ء۔ان کی زندگی کے تمام حالات جلد اول میں جمع کر دیئے گئے ہیں۔* اس سال صرف بدر میں مبائعین کے اسماء شائع ہوتے رہے۔لیکن آپ کا نام وہاں موجود نہیں۔جس سے ظاہر ہے کہ یہ فہرست مکمل نہیں۔