اصحاب احمد (جلد 11) — Page 355
355 بابی انت وامی۔طالب دعا خاکسار حضور کا غلام ظفر اللہ خان ( الفضل ۱۹۵۶-۸-۲۶) حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کو ستمبر ۱۹۵۶ء میں ذیل کے رویا سے اللہ تعالیٰ نے چوہدری صاحب محترم کے جذبہ احترام و حفاظت احمدیت سے مطلع فرمایا۔حضور نے بیان فرمایا:۔’خواب میں دیکھا کہ میں ایک شہر میں ہوں۔جس میں ایک بڑی عمارت کے سامنے ایک چوک ہے جس میں بہت سی سڑکیں آکر ملتی ہیں۔میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ میری طرف آ رہا ہے۔اور میں نے اس کے آنے کو برا محسوس کیا۔اس وقت میرے ساتھ کوئی پہرہ دار نہیں۔میں فوراً پاس والی عمارت کے پھاٹک کی طرف مڑا اور پھاٹک میں سے ہو کر اندر چلا گیا۔اس عمارت کے چاروں طرف لوہے کی مضبوط چھپٹی چپٹی سلاخوں کا کٹہرہ ہے۔جیسا کہ اہم سرکاری عمارتوں میں ہوتا ہے۔جب میں اندر گیا تو میں نے دیکھا کہ اس عمارت کے وسطی حصہ کے سامنے جو مسقف ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیٹھے ہیں۔آپ نے مہندی لگائی ہوئی ہے اور آپ کے چہرہ کا رنگ اور مہندی کا رنگ خوب روشن ہے جو اب تک میری آنکھوں کے سامنے پھرتا ہے میرے اندر جانے پر آپ کٹہرے کی طرف آئے۔گویا یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ با ہر کون کون لوگ ہیں۔میں وسطی حصہ کے گرد چکر لگا کر پیچھے کی طرف چلا گیا۔اور میں نے دیکھا کہ جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کرسی پر بیٹھے تھے۔اسکی پشت کی عمارت کے پیچھے چوہدری ظفر اللہ خاں کھڑے ہیں جیسے کوئی احترام یا حفاظت کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔اتنے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کٹہرے کے پاس جا کر اور تسلی کر کے واپس آگئے۔اور یوں معلوم ہوا جیسے کوئی خطرہ یا تو تھا ہی نہیں یا جاتا رہا۔“ ( الفضل ۵۶-۱۰-۴) قربانی کی تڑپ حضرت مولوی نعمت اللہ صاحب مجاہد افغانستان کو وہاں کی حکومت نے تبلیغ کے لئے آنے کی