اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 354 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 354

خاکسار گزارش کرتا ہے۔۔354 اندریں دیں آمده از مادریم واندریں از دار دنیا بگذریم انشاء الله باون سال ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک چہرہ پر نظر پڑنے کی خوش نصیبی کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و رحم اور ذرہ نوازی سے یہ حقیقت ایک بچے کے دل میں راسخ کردی که به چهره راستباز پہلوان کا چہرہ ہے۔پھر جذبات کے ساتھ دلائل ، براہین ، بینات کا سلسلہ شامل ہو گیا اور جاری ہے۔حضور کا وجود یوم پیدائش بلکہ اس سے بھی قبل سے اس سلسلہ کا ایک اہم جزو ہے۔خاکسار کو یاد ہے کہ ۱۹۱۴ء میں لندن میں جس دن وہ ڈاک ملی جس میں اختلاف کے متعلق مواد آیا تھا۔تو وہی دن ڈاک کے واپس جانے کا تھا۔پس اتنا معلوم ہونے پر کہ اختلاف کیا ہے۔خاکسار نے بیعت کا خط لکھ کر ڈاک میں ڈال دیا اور باقی حصہ ڈاک بعد میں پڑھا جاتا رہا۔اس دن سے آج تک پھر محض اللہ تعالیٰ کے فضل ورحم اور ذرہ نوازی سے باوجود اپنی کوتاہیوں ، کمزوریوں اور غفلتوں کے وہ عہد جو اسی دن سے باندھا تھا۔مضبوط سے مضبوط تر ہو گیا۔آیات اور بنیات ، انعامات اور نوازشات نے اس تعلق کو وہ رنگ دے دیا ہے کہ خود دل جو اسکی لذات سے تو متواتر بہرہ ور ہوتا ہے۔اس کی حقیقت کی تہہ کو نہیں پہنچ پاتا۔چہ جائیکہ قلم اسے احاطہ تحریر میں لا سکے۔اب جو عہد حضور نے طلب فرمایا ہے۔دل و جان اس کے مصدق ہیں۔جو کچھ پہلے حوالہ کر چکے ہیں۔وہ اب بھی حوالہ ہے ظاہری فاصلہ ہونے کی وجہ سے خاکسار یہ التجا کرنے سے مجبور ہے کہ ایسے اعلان کے ساتھ حضور یہ اعلان بھی فرما دیا کریں کہ ہم اپنے فلاں دور افتادہ غلام کی طرف سے اس پر لبیک کا اعلان کرتے ہیں۔تا یہ خاکسار کسی موقع پر ثواب میں پیچھے نہ رہ جائے۔حضور کو اس درجہ حسن ظن رہے گا۔تو اللہ تعالیٰ بھی اپنی کمال ستاری اور ذرہ نوازی سے خاتمہ بالخیر کی ہوس کو جو ہر مومن کی آخری خواہش ہوتی ہے فادخلی فی عبادی کی بشارت کے ساتھ اپنے حضور طلب فرمائے گا۔