اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 322 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 322

322 واجب الاطاعت امام یہاں رہتا ہے۔اسلئے یہاں کے احمدیوں کے متعلق جو بات ہوگی وہ ساری دنیا کے احمدیوں پر اثر انداز ہوگی۔دیگر مقامات کے احمدیوں کے متعلق یہ صورت نہیں سرکاری وکیل نے کہا کہ جن حالات میں یہ دفعہ نافذ کی گئی تھی وہ جوں کے توں ہیں۔البتہ اگر کوئی خاص تکالیف ہوں تو انکا ازالہ کیا جا سکتا ہے پولیس ہمیشہ وہاں نہیں رکھی جاسکتی۔شیخ صاحب نے تکالیف بیان کیں اور بتایا کہ اپنے خیالات کا اظہار نہ کر سکنا بجائے خود ایک بڑی تکلیف ہے۔شہریت کے حقوق سے محروم ہو جانا ، اپنی شکایات کا اظہار تعمیری پروگرام کے ضمن میں جلسے ، روح پرور تقریر میں ، سوشل جلسے، اقتصادی بدحالی کو دور کرنے کے لئے جلسے یہ سب منع کر دئے گئے ہیں۔اگر پولیس وہاں ہمیشہ نہیں رکھی جاسکتی تو کیا یہ دفعہ ہمیشہ جاری رکھی جاسکتی ہے چونکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے درخواست نامنظور کر دی تھی۔اسلئے سیشن جج کی عدالت میں درخواست دی گئی اور مکرم شیخ صاحب پیش ہوئے لیکن سیشن جج نے بھی درخواست نا منظور کر دی۔( الفضل ۱۷و۲۴ و ۲۸ رفروری ۱۹۳۵ء ) جناب چوہدری صاحب کی اس بارہ میں اپیل کی ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔آپ نے بحث میں بتایا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے قادیان اور اسکے گردو نواح کے بارہ گاؤں میں یہ دفعہ نافذ کی ہے مگر یہ حکم بالکل مہم ہے کیونکہ ان جگہوں کا صاف اور واضح الفاظ میں تعین نہیں کیا گیا اور یہ بات پبلک پر چھوڑ دی ہے کہ وہ خود کرے۔آیا فلاں جگہ علاقہ ممنوعہ میں شامل ہے یا نہیں۔قادیان ایک پھیلی ہوئی آبادی ہے میں بارہ وہاں گیا ہوں۔مگر میں قادیان کی حدود کی تعین نہیں کر سکتا۔اس دفعہ کا واضح منشاء یہ ہے کہ جگہ کا تعین صاف الفاظ میں ہونا چاہیے۔تا کہ غلطی ہونے کا احتمال نہ رہے۔آپ نے اس بارے میں بمبئی ہائیکورٹ اور دیگر ہائی کورٹوں کے فیصلے اپنی تائید میں پیش کئے۔سرکاری وکیل نے جواباً کہا کہ اس حکم کی میعاد تین دن کے بعد ختم ہورہی ہے۔اسلئے فاضل حج کو اس فیصلہ میں داخل دینے کی ضرورت نہیں۔اسپر چوہدری صاحب نے کہا کہ اگر ان کی بات مان لی جائے۔تو پھر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ایسے احکام کے خلاف کبھی کوئی اپیل ہی پیش نہ ہو سکے گی کیونکہ عدالت عالیہ میں اپیل پہنچتے پہنچتے عموماً اتنا وقت ضرور لگ جاتا ہے۔یہ مقدمہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوا اور سیشن جج کی عدالت میں پیش ہوا۔سیشن جج نے کہا کہ پہلے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نظر ثانی کا فیصلہ کرے پھر ہائی کورٹ میں کچی پیشی پڑی اور آج کی پیشی میں یہ اپیل پیش ہوئی۔اس سے پہلے اس مقدمہ کا پیش ہونا کسی حالت میں ممکن نہ تھا۔