اصحاب احمد (جلد 11) — Page 207
207 چوہدری صاحب محترم نے قاضی صاحب اور جماعت کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کسی دنیوی مجلس میں ایسی خوشی نہ ہوتی۔کیونکہ ان میں بعض دفعہ محض تکلف سے باتیں کی جاتی ہیں۔محبت جتنی آپ نے ظاہر کی ہے مجھے یقین ہے کہ دلوں میں اس سے زیادہ ہے۔مجھے بھی آپ سب سے ویسی ہی محبت ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ مجھے بڑھ کر ہے۔مبادا آپ یہ کہیں کہ میں نے آپ سے نا انصافی کی ہے۔میری جو تعریف کی گئی ہے۔میں اس کا اہل نہیں۔بلکہ وہ میرے لئے ندامت کا موجب ہے۔میرے عہدہ کی مجھ سے زیادہ خوشی آپ لوگوں کو ہے۔آپ نے جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ایک مجلس میں جس کے صدر ایک امریکن پادری تھے ، استفسار پر میں نے بتایا کہ احمدیوں اور دوسرے مسلمانوں کی مثال ایک جاگتے اور ایک سوئے ہوئے کی سی ہے۔دوسرے مسلمان تو صحابہ اور اسلاف کی قربانیاں بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں ( لیکن خود ان کے اسوہ پر اپنا زندہ عمل پیش نہیں کرتے ) لیکن ہم زندہ اسلام پیش کرتے ہیں اور ہم بھی ان جیسی قربانیاں پیش کرنے کو تیار ہیں۔اور مشکلات سے نہیں گھبراتے۔اللہ تعالیٰ قدم قدم پر ہمیں ترقی دیتا جائے گا۔ایک صاحب نے کہا کہ جماعت آج کل سخت مشکلات میں ہے۔اگر ثابت قدم نکلی تو یہ دعویٰ صادق ہوگا۔میں نے کہا کہ باوجود مشکلات کے جماعت میں کوئی پریشانی نہیں بلکہ میں افراد میں ایک تازگی اور فرحت محسوس کرتا ہوں۔البتہ ہر فرد کو ان انعامات کا مورد بننا چاہیئے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہ درست فرمایا ہے کہ ان مشکلات میں سے گذرنے کو قربانی کہتے ہوئے شرم آنی چاہیئے۔ابھی تو ہم سے بہت تھوڑی قربانی طلب کی گئی ہے۔ان دنوں جو لذت إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین پڑھنے سے حاصل ہوتی ہے آپ سب محسوس کرتے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ نے دوسرے سارے سہارے توڑ دئے ہیں۔احباب میرے لئے دعا کرتے رہیں۔فاصلہ کا بعد رشتہ اخوت کو ڈھیلا نہیں کر سکتا۔(الفضل ۶/۵/۳۵ ( ص ۳ تا ۵ ) اس کا ایک حصہ کسی دوسری جگہ درج کیا گیا ہے۔(۲) مالی خدمات: آپ کی بعض مالی خدمات کا ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے :