اصحاب احمد (جلد 11) — Page 192
192 صاحب کے متعلق مفتی کی رائے کو ایک مؤثر مذہبی فتوی خیال کیا ہے۔اگر یہ اصول مان لیا جائے کہ عز و وقار اور ان کا سارا مستقبل محض چند علماء کے خیالات و آراء کے رحم و کرم پر آ رہے گا۔فتویٰ کسی مخصوص اور غیر مبہم واقعہ کے متعلق ہونا چاہیئے۔اور پھر ایسی صورت میں بھی اس کی حقیقت محض ایک رائے سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔اور نہ ہر شخص کے لئے اس کا تسلیم کرنا واجب اور لازمی قرار دیا جا سکتا ہے۔اسلام نے علماء کے ذریعہ کسی کلیسائی نظام کی بنیاد نہیں ڈالی۔اور انہیں ایسے اختیارات تفویض نہیں کئے کہ دوسروں کو خارج از اسلام قرار دیتے پھریں۔ہر وہ شخص جو کہتا ہے کہ خدا ایک ہے اور محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے رسول ہیں اور وہ کعبہ کو اپنا قبلہ تسلیم کرتا ہے۔وہ یقیناً مسلمان ہے اور اس کا اسلام کسی ظاہری تصدیق کا محتاج نہیں۔یہ امر مسلمانوں کے مفاد کے سراسر خلاف ہے کہ کسی ایک فرقہ کو بے دین قرار دیا جائے۔اسلام کے بڑے بڑے اصولوں میں سے ایک اصول یہ بھی ہے کہ دوسروں کے ایمان میں شبہ سے پر ہیز کرو۔ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ظفر اللہ خاں اپنے قول اور اپنے کردار کی رو سے مسلمان ہیں۔روئے زمین کے تمام حصوں میں اسلام کی مدافعت کرنے میں آپ کامیاب رہے اور اسلام کی مدافعت میں جو مؤقف بھی اختیار کیا گیا ، اس کی کامیاب حمایت ہمیشہ آپ کا طرہ امتیاز رہا۔اسی لئے آپ کی عزت عوام کے دلوں میں گھر کر گئی۔اور مسلمانانِ عالم کے قلوب آپ کے لئے احسان مندی کے جذبات سے لبریز ہو گئے۔آپ ان اہل ترین قائدین میں سے ہیں۔جنہیں عوامی اور ملی مسائل کو خوش اسلوبی سے طے کرنے کا ملکہ حاصل ہے۔“ قاہرہ کے با اثر اخبار الزمان نے الا ز ہر یونیورسٹی کے ڈائر یکٹر خشابہ پاشا کی طرف سے مفتی مصر شیخ حسنين مخلوف کی شدید مذمت کی اور لکھا کہ : ذمہ وار حلقے اس فتویٰ پر بہت ملامت و نفرین کا اظہار کر رہے ہیں۔مسلمانوں اور عربوں کے معاملات میں بالعموم اور مصر کے معاملات میں