اصحاب احمد (جلد 11) — Page 123
123 کام بہ سہولت سرانجام ہوتا رہا۔حصہ آمد کے پس منظر کے تعلق میں مکرم شیخ صاحب بیان کرتے ہیں : ان ایام میں ایک دفعہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسالہ الوصیت میں لکھا ہے کہ اموال کثرت سے آئیں گے لیکن نہیں آئے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وصیتوں کے متعلق غلط راستہ اختیار کر لیا گیا۔مثال کے طور پر ایک شخص کی آمدنی دوصد روپے ماہوار ہے اور اس کی جائیداد ایک کنال زمین ہے۔تو وہ ایک کنال کی وصیت کرتا ہے لیکن ماہوار آمد کی وصیت نہیں کرتا۔وغیرہ وغیرہ۔اس پر چوہدری صاحب نے فرمایا کہ جن موصوں کی آمد بھی ہے ان سے آمد کی وصیت بھی لکھواؤں لیکن لوگ معترض ہوئے کہ یہ امر منشاء الوصیت کے خلاف ہے اور تم اس منشاء کو بدل رہے ہو۔اس پر چوہدری صاحب نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے صحابیوں سے حصہ آمد کے متعلق حالات معلوم کروں۔چنانچہ حضرت مولوی عبد اللہ صاحب سنوری نے بتلایا آمدنی کے ماہوار دسواں حصہ دینے کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں یہی عمل شروع ہوا تھا۔پھر خدا داد خاں صاحب رسائیدار مرحوم نے مجھے ایک مطبوعہ ورق دکھلایا۔اس پر ریزولیوشن مجلس معتمدین وصایا مورخہ ۰۶۔۱۔۲۹ کے متعلق مضمون اور ہدایات چھپی ہوئی تھیں۔اور یہ ریزولیوشن مصدقہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھا۔اس میں یہ درج تھا کہ جو لوگ جائیداد نہیں رکھتے بلکہ آمدنی کی سبیل رکھتے ہیں۔وہ اپنی آمدنی کا دسواں حصہ ماہوار دیں لیکن ان کو یہ وصیت کرنی ہوگی کہ بوقت وفات جو متروکہ ثابت ہو۔انجمن اس کے دسویں حصہ کی مالک ہوگی۔میں نے مکرم چوہدری صاحب کو یہ سارا واقعہ سنایا۔تو انہوں نے فرمایا که اصل ریزولیوشن تلاش کروں۔چنانچہ میں نے جنرل سیکرٹری صدر انجمن احمدیہ کے پرانے ریکارڈ سے تلاش کر کے اصل رجسٹر نکال لیا اور ریزولیوشن ۱۹۰۶۔۱۔۲۹ پر مولوی محمد علی صاحب سیکرٹری انجمن احمد یہ اور حضرت مولوی نورالدین صاحب پریذیڈنٹ انجمن احمد یہ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دستخط تھے۔جب چوہدری صاحب نے یہ کتاب اور ریزولیوشن دیکھا۔تو آپ نے فرمایا اب اسے رسالہ الوصیت کے ساتھ شائع کر دو اور اس کے مطابق تمام موصیوں سے خواہ پرانے ہوں یا نئے عمل کراؤ۔اُن دنوں یہ معاملہ مجلس مشاورت میں بموجب حکم حضرت خلیفہ اسیح الثانی اید واللہ تعالی پیش