اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 77 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 77

77 ابھی بچہ تھا۔اور والد صاحب اس سے بہت پیار کرتے تھے۔جب والد صاحب کی بیماری بہت بڑھ گئی اور موت کا وقت قریب آ گیا۔تو مستورات نے بچے کو آپ کے پاس بٹھانا چاہا مگر والد صاحب نے ان کو ایسا کرنے سے روک دیا۔مجھے یہ سبق ملا کہ جب جان پر بن جاتی ہے تو اولاد بھی پیاری نہیں لگتی۔میں نے اپنے والد صاحب کی وفات کے بعد حافظ کریم بخش صاحب سے قرآن پڑھنا شروع کیا۔میں ان کے پاس روزانہ قرآن کریم پڑھنے جایا کرتا تھا۔وہ قرآن کریم کا ترجمہ نہ جانتے تھے۔میں ان کو تر جمہ پڑھ کر سنایا کرتا تھا۔تو وہ بہت خوش ہوتے۔ان دنوں قرآن کریم کے علاوہ ایک کتاب ”سیرۃ الفاروق“ بھی میرے زیر مطالعہ تھی۔جس کے پڑھنے سے مجھے بہت فائدہ ہوا۔اس زمانہ میں میں روزہ نماز کا سخت پابند تھا ہاں اکثر بیمار رہتا تھا اور جو مولوی ہمارے گاؤں میں آتے ان کے وعظ ونصیحت کے سننے کے لئے لوگوں کو جمع کرنے کا انتظام کرتا اور ان علماء کی خدمت اور مدارات کرتا۔تحریک احمدیت :۔حمدیت:۔ایک روز کریم بخش صاحب سکنہ موضع حسین چک جو ہمارے گاؤں سے ایک میل کے فاصلہ پر ہے وہ ہمارا کاشتکار تھا۔ایک کتاب ازالہ اوہام لے کر آیا اس نے کہا میں لدھیانہ سے ماسٹر قا در بخش صاحب ( والد مولوی عبدالرحیم صاحب در دایم۔اے مبلغ لندن ) سے لایا ہوں اس میں حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا ذکر ہے۔میں نے کہا میں پڑھوں گا۔چونکہ میں قرآن کریم پڑھا ہوا تھا جب میں نے ازالہ اوہام“ کو پڑھا تو اس کی صداقت نے مجھے اپنی طرف کھینچنا شروع کیا۔ان دنوں تین آدمی ہم اکٹھے رہا کرتے تھے۔خاکسار راقم ، چوہدری نجابت علی خاں کرسی نشین ، حکیم کوڑے خان صاحب برادر جیوے خاں۔وہ دونوں صاحب فوت ہو چکے ہیں ہر وقت ہمارے مکان پر یہی تذکرہ رہتا۔کریم بخش مذکور کو اور کتا بیں لانے کے لئے کہا گیا۔چونکہ (ماسٹر * ) قادر بخش صاحب ان کے دور کے رشتہ میں تھے اس لئے وہ ”ست بچن نور القرآن ہر دو حصہ اور چند اشتہارات لائے جن کو پڑھکر ہم بہت خوش ہوئے۔چوہدری احمد الدین صاحب بیان کرتے ہیں :۔(الف) کہ افسوس کریم بخش مذکور احمدیت کی نعمت سے محروم رہا (ب) حکیم کوڑے خان صاحب احمدیت کا مطالعہ بڑے غور سے کر رہے تھے اور تقریباً صداقت تک پہنچ چکے تھے۔لیکن عمر نے وفا نہ کی اور حاجی صاحب کی بیعت کے بعد اسی سال ۱۹۰۳ء میں وفات پاگئے۔البتہ ان کے بھائی صاحب جیوے خاں صاحب نے حضرت مسیح موعود کے ہاتھ پر بیعت کی۔اور متعدد دفعہ حضور کی زیارت کا موقع پایا۔بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ