اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 76 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 76

76 ان دنوں مجھے ایک فقیر نے نماز پڑھتا دیکھ کر خصوصاً نماز تہجد پڑھتا دیکھ کر جو میں گاہے گا ہے پڑھا کرتا تھا۔ایک درود شریف پڑھنے کے لئے بتایا وہ درود شریف یہ ہے اَللَّهُمَّ صَلَّى عَلَى سَيِّدِ نَا مُحَمَّدٍ أَوْعْتُوْبَةٌ بَعَدَ و كُلِّ مَعَلُومُ لَکَ۔اس درود شریف کو کثرت سے پڑھا کرتا تھا ایک رات خواب میں مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی میں نے سنہری لباس میں جو چمکتا تھا حضور کو دیکھا۔اور خانہ کعبہ میں آپ کے پیچھے نماز پڑھی اس وقت بے شمار مخلوق جمع تھی جیسا کہ حج کے ایام ( ہوں) میں نے اس خواب کا ذکر اس فقیر کے پاس کیا جس نے مجھے درود شریف بتایا تھا۔اس نے کہا اس کا ذکر کسی سے نہ کرنا فیض جاتا رہے گا اور یہ بھی کہا کہ مجھے تو زیارت نہیں ہوئی۔میں نے دیر تک اس خواب کا ذکر کسی سے نہ کیا۔پھر پرا ئمری پاس کر کے ورنیکلر سکول میں داخل ہوا اس وقت میں وظیفہ حاصل کر چکا تھاور نیکر تعلیم کے ایام میں نماز کبھی پڑھ لیتا تھا کبھی چھوٹ جاتی۔مگر میری محبت ( اور ) صحبت نیک دیندار لڑکوں سے ہوتی۔اور جو کوئی ہندو یا سکھ کوئی مذہبی بات کرتا میں اس پر اسلام کی خوبی بیان کر کے اسے قائل کر دیتا۔اور اپنے اس خواب کو خیال سمجھنے لگا کہ اندھا جب خواب دیکھتا ہے تو ٹٹولنے کے خواب آتے ہیں۔ایک دن میں مدر سے سے گھر آرہا تھا اور تاریخ ہند پڑھ رہا تھا اس میں پڑھا کہ اکبر بادشاہ نے حضرت سلیم شاہ کے پاس پا پیادہ جا کر دعا کرائی۔اور جب شہزادہ جہانگیر پیدا ہوا تو اس کا نام شہزادہ سلیم اسی بزرگ کے نام پر رکھا۔اس بات کا میرے دل پر بہت اثر ہوا کہ اہل اللہ کے پاس بادشاہ بھی حاجات لے جاتے ہیں مگر اہل اللہ اپنی حاجات بادشاہ کے پاس نہیں لے جاتے۔میرے والد صاحب ایک رشتہ دار کے مقدمہ میں امداد کے لئے ہوشیار پور جانیوالے تھے میں نے ہوشیار پور جاتے وقت’ حکایت العاقلین نامی ایک کتاب خرید لانے کے لئے رقعہ لکھ کر دیا۔چونکہ آپ پڑھے لکھے نہ تھے کتب فروش نے بجائے حکایت العاقلین کے حکایت الصالحین و مقصد الصالحین دو کتابیں ان کو دے دیں۔ان کے پڑھنے سے جو نیک اور پرہیز گاروں کے حالات تھے مجھے بہت فائدہ ہوا۔فارسی مڈل پاس کر کے میں نے مزید تعلیم حاصل کرنا چھوڑ دیا۔کیونکہ میرے والد صاحب امتحان سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے مجھے اپنے والد صاحب کی وفات پر بھی سبق ملا۔میرا ایک بھائی عبدالرحمان خان نامی تھا جو نقل مطابق اندراج الحکم سہو ہے اصل الفاظ یہ ہونگے۔سید نا محمد وعترته (متولف)