اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 42 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 42

42 والد صاحب بیمار ہو گئے۔میں ان کو دیکھنے کے لئے بنوڑ آیا۔والد صاحب کا انتقال ہوگیا۔پھر میں تعلیم جاری نہ رکھ سکا۔ہمارے والدین کے ہاں آٹھ بچے پیدا ہوئے جن میں سے ہم دو بھائی اور ایک بہن زندہ رہے۔باقی بچپن ہی میں فوت ہو گئے۔بھگت جی :۔میرے بڑے بھائی شادی رام مجھ سے قریباً بارہ سال بڑے تھے اور بھگت جی کر کے مشہور تھے۔وہ کہا کرتے تھے کہ ان میں بعض دیوی دیوتاؤں کی روح حلول کرتی ہے۔چنانچہ ہمارے اعتقادات کے مطابق نیتا دیوی۔جوالامکھی دیوی۔کالی دیوی لکشمی دیوی اور گوگا پیر جس کا موضع چھپا ریاست مالیر کوٹلہ میں میلہ لگتا ہے۔گاہے بگا ہے ان میں حلول کرتے رہتے تھے۔اس پر میرے بھائی پر حال کی سی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔اور وہ جوش میں آکر کھیلنے لگ جاتے تھے ہم ہاتھ باندھ کر دعا ئیں اور التجائیں کرنے لگ جاتے تھے۔جب حلول کرنے والی روح میرے بھائی کو چھوڑ جاتی تھی تو وہ چراغ کے سامنے ماتھا ٹیک دیتے تھے۔میں بھی بوجہ کٹر سناتن دھرمی ہونے کے ان باتوں پر پختہ اعتقاد رکھتا تھا۔اور اکثر نیتا دیوی یاترا کے لئے بھی جایا کرتا تھا۔میں نے گھر میں ابرک کا ایک مندر بنارکھا تھا۔کچھ زور عقیدت سے اور کبھی ایک آریہ سماجی کو جو ہمارے پڑوس میں رہا کرتا تھا چڑانے کے لئے خوب زور زور سے گھنٹی بجایا کرتا تھا اور پوجا پاٹ کیا کرتا تھا۔میرے خیالات کیونکر بدلے:۔میرے خیالات کیونکر بدلے! اس کی ایک لمبی تفصیل ہے۔مختصراً یہ کہ جن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے مطابق طاعون کا مرض ملک میں زور سے پھوٹ پڑا۔اور ہر طرف موتا موتی لگ گئی اس وقت اس پریشانی اور گھبراہٹ کے عالم میں ہمارے علاقہ میں کسی نے یہ مشہور کر دیا کہ کسی بھگت میں بسنتی دیوی جی نے حلول کر کے یہ آواز کیا ہے کہ لوگوں نے مجھے بھلا دیا ہے اس لئے ملک میں طاعون آیا ہے نجات چاہتے ہو تو میری پوجا کرو۔لوگ سہمے ہوئے تو تھے ہی جو نہی دیوی کا یہ فرضی پیغام لوگوں کے کانوں میں پڑا۔ہر جگہ بسنتی دیوی کی پوجا ہونے لگی۔ہمارے شہر میں میرے بڑے بھائی صاحب مندر چونکہ طاعون موسم بہار میں زیادہ زوروں پر ہو جاتا تھا۔جبکہ سرسوں پھولتی ہے اور انہی دنوں بسنت کا تہوار بھی ہوتا ہے۔غالباً اسی مناسبت سے طاعون کے دنوں میں یہ دیوی ایجاد ہوئی تھی۔ورنہ اس سے قبل اس نام کی کوئی دیوی سننے میں نہیں آئی تھی۔وہاں کے ہندووں نے چندہ جمع کر کے ایک اچھا بڑا دیوی کا مندر بھی بنا دیا تھا۔اور میرے بڑے بھائی مندر کے پجاری تھے (عبدالرحیم شرما)