اصحاب احمد (جلد 10) — Page 43
43 کے بیچاری تھے انہوں نے بھی بسنتی دیوی کی پوجا شروع کرا دی۔مندر میں ماہ بماہ دیوی کا میلہ لگتا تھا۔دیوی بھی میرے بھائی پر کرم فرما تھی۔اور گاہے بگا ہے دوسری دیویوں کی طرح اس میں حلول کرتی رہتی تھی۔انہی دنوں میرے والد صاحب اور بھا وجہ صاحبہ دونوں طاعون سے فوت ہو گئے۔اس وقت میں نیا نیا پٹیالہ سے تعلیم چھوڑ کر آیا تھا۔جب طاعون کی شدت بڑھ گئی تو ہمارے خاندان نے مندر میں جا کر دیوی کے چرنوں میں پناہ لی۔دو ہفتہ کے قریب ہم وہاں رہے پھر گھر آگئے۔کچھ عرصہ کے بعد اتفاق ایسا ہوا کہ میرے بھتیجے کو جو کہ میرے اسی بھائی شادی رام کا لڑکا تھا۔طاعون ہو گئی۔لڑکا بہت ہو نہار تھا مجھے اس سے بہت محبت تھی میرے بھائی تو کچھ لا پرواہ سے تھے میں اس کی توجہ سے تیمارداری کرتا تھا۔ہم سب کو اس کے بیمار ہونے کا بہت صدمہ تھا۔ہم دن رات اس کی شفایابی کے لئے بسنتی دیوی سے التجائیں کرتے تھے۔ایک دن اچانک میرے بھائی میں بسنتی دیوی حلول کر آئی۔ہم سب ہاتھ باندھ کر بیٹھ گئے۔اور فریاد کرنے لگے کہ ” ہے دیوی! دیکھ تیرے بھگت کے پتر کو طاعون نے پکڑ لیا ہے کرم کر اور اس کو اس مرض سے نجات دے تب دیوی میرے بھائی کی زبان سے یوں گویا ہوئی کہ آج سے آٹھ دن کے اندراندرلڑ کے کو آرام آجائے گا۔“ یہ خوشخبری سن کر ہم سب کو ایک گونہ تسلی ہو گئی کہ دیوی کی کر پاسے اب لڑکا اچھا ہوکر رہے گا لیکن خدا کی حکمت ایسی ہوئی کہ عین آٹھویں روز لڑ کا فوت ہو گیا۔اس واقعہ نے میری طبیعت پر گہرا اثر چھوڑا۔کبھی مجھے دیوی کی طرف سے بدظنی ہو جاتی اور کبھی اپنے اعتقاد کی پختگی کی وجہ سے تاویل کرتا کہ دیوی کے اس کہنے کا مطلب کہ لڑکے کو آٹھ دن کے اندر اندر آرام آجائے گا شاید یہ تھا کہ وہ آٹھ روز کے اندر دنیا کی تکالیف سے چھوٹ کر میرے پاس آ رہے گا۔لیکن اکثر دل میں یہ خیال آتا کہ بھائی جو د یوی کا اتنا بھگت بنا پھرتا ہے اور دن رات پوجا پاٹ میں لگا رہتا ہے دیوی جب اس کی نہیں سنتی تو دوسروں کی کیا پرواہ کرتی ہوگی۔دیوی دیوتا میں کچھ صداقت نہیں :۔کچھ دنوں کے بعد اسی قسم کے ایک اور واقعہ سے میرا اعتقاد دیوی دیوتاؤں پر سے بالکل جاتا رہا۔وہ واقعہ یوں ہوا کہ جب والد صاحب فوت ہو گئے تو میرے بھائی نے دکان کا کام سنبھال لیا۔میری والدہ صاحبہ نے فرما یا کشن ! تم اب پڑھنا چھوڑ دو۔اور کاروبار میں بھائی کا ہاتھ بٹاؤ۔چنانچہ میں بھائی صاحب کے ساتھ دکان پر کاروبار کرنے لگ گیا۔اور اتفاق ایسا ہوا کہ ایک روز شام کے وقت مجھ کو حاجت محسوس ہوئی اور میں قضائے حاجت کے لئے جنگل کو گیا۔ہمارے قصبہ میں ایک پرانا جو ہر تھا۔لوگ عموما استنجاء کے لئے وہاں سے پانی لیا کرتے تھے۔جو ہڑ کا پانی بہت گندہ ہو چکا تھا۔اس پر کائی جمی ہوئی تھی۔میری