اصحاب احمد (جلد 10) — Page 34
34 کے متعلق تمہیں کوئی بات نہ لکھوں گا۔یہ مولوی صاحب کی ناراضگی کی ابتداء ہے۔اس کے بعد ایسی ہی چھوٹی چھوٹی باتوں سے ناراضگی بڑھتی گئی۔بہائی مذہب کے لوگوں سے میری دیر کی واقفیت ہے۔پروفیسر پریتم سنگھ ، حشمت اللہ ، اسفندیار، محفوظ الحق علمی ، مولوی عبداللہ کشمیری وغیرہ سب لوگ مجھے جانتے ہیں اور میں ان کو جانتا ہوں۔میں نے بہائی مذہب کی موافق و مخالف بہت سی کتابیں اردو۔فارسی۔عربی۔اور انگریزی کی پڑھی ہیں۔اور کبھی کبھی ان کی محفلوں میں بھی جاتارہا ہوں۔پروفیسر مذکور کی معرفت ان کی لاہور کی لائبریری سے یہ ساری کتابیں لے کر میں نے پڑھی ہیں اور کچھ خریدی بھی ہیں۔ان کے مؤقت الشیوع رسالے بھی باقاعدہ پڑھتا رہا ہوں۔اس سے بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ میں بہائی ہوں جس کا میں ہمیشہ انکار کرتا رہا ہوں لیکن چونکہ بہائی لوگ عموما اپنے عقائد پوشیدہ رکھتے ہیں ان کا عقیدہ ہے اَسْتَرُ ذَهَبَكَ وَ ذَهَابَكَ وَمَذْهَبَكَ۔یعنی اپنی دولت، اپنے مقام اور اپنے مذہب کو پوشیدہ رکھو اس پر وہ عمل کرتے ہیں۔اس لئے انہوں نے خیال کیا کہ میں بھی شاید اسی عقیدے کے ماتحت غلط بیانی کرتا ہوں۔ایک دفعہ میں نے ایک خط محفوظ الحق علمی کو دہلی لکھا تھا۔مولوی عبداللہ کشمیری کا چھوٹا لڑکا وہ خط بہائیوں کے دہلی کے دفتر سے چرا کر لاہور لے آیا اور مولوی محمد علی صاحب کو دیا۔انہوں نے وہ خط مجھے دکھا کر کہا کہ آپ نے لکھا ہے۔میں نے کہا ہاں کہنے لگے کہ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ تم بہائی ہو۔میں نے کہا کہ یہ نتیجہ غلط ہے میرا ہرگز وہ منشاء نہیں جو آپ نکالتے ہیں۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں تقریبا بارہ سال گزارے ہیں۔میں ان کو کبھی بھی جھوٹا نہیں مان سکتا۔اور بہائیت کو سچا ماننے سے لازمی نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نعوذ باللہ جھوٹے تھے۔مولوی محمد علی صاحب کو میری باتوں سے تسلی نہ ہوئی اور وہ سخت ناراض ہوئے۔وہی باتیں میں نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سے کیں تو آپ مجھ سے ناراض نہیں ہوئے۔میرا تجربہ ہے کہ ایک شخص مولوی محمد علی صاحب سے دور رہ کر تو ان کے علم اور احمدیت و اسلام کے متعلق ان کی تحریرات کی وجہ سے ان کے ساتھ بہت محبت اور عقیدت رکھ سکتا ہے مگر ان کے قریب آکر اس کی یہ حالت قائم نہیں رہتی۔اس کی ایک بڑی مثال خان بہادر میاں محمد صادق صاحب ریٹائر ڈ ڈی ایس۔پی ہیں۔ان کو مولوی صاحب سے بے حد عقیدت تھی مولوی صاحب کے ہر ایک حکم کا مانا اپنی سعادت سمجھتے تھے۔یہ احمدیہ