اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 27 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 27

27 جون ۱۹۰۹ء تک مدرسہ میں کام کرتا رہا۔جون سے آخر اگست ۱۹۰۹ ء تک دفتر محاسب میں جون ۱۹۱۰ء سے اگست ۱۹۱۱ء تک بطور سپریٹنڈنٹ دفاتر۔اگست ۱۹۱۱ء سے مئی ۱۹۱۴ ء تک اسٹنٹ مینجر میگزین۔اس عرصہ میں وقتا فوقتا جب مدرسہ میں ضرورت ہوتی علاوہ اپنے اصلی فرائض کے مدرسہ میں بطور مدرس ریاضی بھی کام کرتا رہا۔حضرت مولانا نورالدین صاحب لڑکوں کو مارنے کے سخت مخالف تھے۔لڑکوں کو اس کا علم تھا۔اس لئے جب میں کسی لڑکے کو سزا دیتا تو وہ حضرت مولانا صاحب کے پاس جا کر شکایت کرتے اور مولانا صاحب اکثر مجھ پر ناراض ہوا کرتے۔اور ہیڈ ماسٹر صاحب کے پاس اور کبھی مولانا محمد علی صاحب کے پاس شکایت کرتے۔حضرت خلیفہ اول آخری ایام میں جب زیادہ بیمار ہو گئے تو آپ مسجد تشریف نہ لے جاسکتے اور اپنے مکان پر ہی نماز پڑھتے۔کبھی کبھی مغرب یا عشاء کی نماز کے وقت میں ان کے پاس ہوتا تو مجھے فرماتے کہ نماز پڑھاؤ۔اور میری اقتداء میں آپ بھی نماز پڑھتے۔خلافت ثانیہ میں لاہور چلے جانا:۔حضرت خلیفہ اول کی بیماری کے ایام میں ہی میں نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ مولانا یعنی حضرت خلیفہ اول فوت ہو گئے ہیں اور حضرت میاں محمود احمد صاحب ان کی جگہ خلیفہ ہوئے ہیں۔اس خواب کا ذکر میں نے حضرت میاں صاحب سے بھی کیا تھا۔( مجھے خواب بہت کم آتے ہیں ) جب حضرت خلیفہ اول فوت ہو گئے تو قادیان کی تقریباً ساری جماعت نے حضرت میاں صاحب کی بیعت کر لی مولا نا محمد علی صاحب ، مولوی صدرالدین، صاحب اکبر شاہ خان نجیب آبادی اور میں نے بیعت نہ کی۔بعد میں ریویو آف ریچز پر چہ ہائے اگست ستمبر ۱۹۱۱ء میں مندرجہ صدرانجمن کے خزانہ کے گوشوارہ ہائے پر مئی میں برائے محاسب“۔جون میں بطور محاسب اور اگست میں بطور قائم مقام محاسب آپ کا نام مرقوم ہے۔معلوم ہوتا ہے مئی سے اگست تک بطور قائم مقام محاسب آپ نے زائد ڈیوٹی کے طور پر کام بھی سرانجام دیا ہو گا۔الفضل ۹/۶۱/ ۹ صفحہ ۴ پر آپ کے بیٹے نعمت اللہ کا ذکر ہے۔سالانہ رپورٹ صدر انجمن احمد یہ قادیان بابت ۱۲۔۱۹۱۱ء آپ کے اہتمام سے طبع ہوئی۔اس وقت آپ اسسٹنٹ مینجر میگزین تھے (سرورق) رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمد یہ بابت ۱۱۔۱۹۱۰ء میں مرقوم ہے: "یکم اگست ۱۹۱۱ء سے سپریٹنڈنٹ دفاتر کی آسامی کسی قابل آدمی کے ملنے تک خالی کی گئی تھی۔کیونکہ ماسٹر فقیر اللہ صاحب کی دفتر میگزین میں ضرورت تھی“۔(صفحہ ۵۲ )