اصحاب احمد (جلد 10) — Page 26
26 الماری انجمن کو دی۔جب میں دفتر محاسب میں لگا تو حضرت مولوی نورالدین صاحب انجمن کے امین تھے اور یہ الماری اس کو ٹھڑی میں تھی جو حضرت مولوی صاحب کے مطب کے ساتھ تھی اور مولوی صاحب کے شاگر د حضرت مولوی غلام محمد صاحب کشمیری اس میں سویا کرتے تھے اور اگر کوئی اور حضرت مولوی صاحب کا مہمان آتا تو وہ بھی وہاں سوتا۔اس الماری کی ایک چابی حضرت مولوی صاحب کے پاس رہتی اور ایک میرے پاس۔اور انجمن کی ہدایت تھی کہ الماری دونوں کی موجودگی میں کھلے۔چونکہ الماری میں تقریباً روزانہ روپیہ رکھنا یا نکالنا ہوتا تھا۔میں دفتر محاسب سے آتا اور مولانا مطب سے اٹھ کر تشریف لاتے۔اور الماری کھولی جاتی پہلے پہل کچھ عرصہ تو مولانا خود تشریف لاتے رہے مگر بعد میں وہ اپنے شاگرد مولوی غلام محمد صاحب کشمیری یا کسی اور کو چابی دے دیتے اور اس کی موجودگی میں الماری کھولی جاتی۔اور رو پیر رکھتا یا نکالتا۔انہی ایام میں ایک دفعہ خزانہ سے ایک سور و پی کم ہو گیا۔میں نے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کیا۔فرمانے لگے تم جانو۔تم ہی الماری بند کرتے کھولتے ہو۔آخر انجمن میں رپورٹ ہوئی۔انجمن نے فیصلہ کیا کہ چونکہ انجمن کے فیصلہ کے مطابق مولوی صاحب خود نہیں جاتے رہے اس لئے اس نقصان کے ذمہ دار مولوی صاحب ہیں چنانچہ مولوی صاحب نے یہ رو پیدا دا کر دیا۔حمد خلافت اولی میں ماسٹر صاحب کی خدمات :۔مئی ۱۹۰۸ء میں حضرت صاحب لاہور تشریف لائے اور ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو حضور کا لاہور میں ہی انتقال ہوا۔انالله و انا اليه راجعون۔ان دنوں آپ ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے مکان پر فروکش تھے۔۲۷ تاریخ کو حضور کا جنازہ قادیان لے جایا گیا اور بہشتی مقبرہ میں حضور کو سپرد خاک کیا گیا۔اور حضرت مولانا نورالدین صاحب کو خلیفہ منتخب کیا گیا۔اور تمام اصحاب نے جو اس وقت قادیان میں موجود تھے حضرت مولوی صاحب کی بیعت کی۔اس کے بعد قادیان کے تقریباً تمام شعبوں میں میں نے کام کیا۔م اس واقعہ سے حضرت مولوی صاحب کی سیرت کے اس درخشندہ پہلو کا علم ہوتا ہے کہ آپ وہ مقام رکھتے تھے کہ آپ کی امانت پر کوئی شبہ نہ ہوسکتا تھا باو جود اس کے انجمن نے جو فیصلہ کیا آپ نے اس کا احترام کیا۔