اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 21 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 21

21 دوبارہ قادیان میں آجانا اور میٹرک کا امتحان پاس کرنا:۔۸ دسمبر ۱۸۹۹ء کو میں رخصت لے کر قادیان گیا اور پھر وہیں رہ گیا۔ان دنوں حضرت مولوی شیر علی صاحب مدرسہ تعلیم الاسلام کے ہیڈ ماسٹر تھے مجھے اول مدرس ریاضی مقرر کیا گیا۔اب مدرسہ تعلیم الاسلام مڈل ہو گیا تھا۔اب تک مڈل کا امتحان یو نیورسٹی کا امتحان ہوا کرتا تھا اور قادیان کا سنٹر گورداسپور تھا۔امتحان دینے والے لڑکوں کے ساتھ میں گورداسپور جاتا۔۱۹۰۱ء میں میں نے بھی انٹرنس کا پرائیویٹ امتحان دیا اور اول درجہ میں پاس ہوا۔ان دنوں محترم مرزا عزیز احمد صاحب ولد حضرت مرزا سلطان احمد صاحب) تعلیم الاسلام سکول میں پڑھا کرتے تھے اور میں ان کا پرائیویٹ ٹیوٹر تھا۔شادی اور مرزا یعقوب بیگ صاحب کا سلوک :۔اسی سال میاں مہرالدین صاحب خانساماں گار ڈروم لالہ موسیٰ نے بھائی امام الدین صاحب گڈس کلرک کی ہمشیرہ محترمہ سردار بیگم صاحبہ کے ساتھ میری شادی کی تحریک کی۔اور مجھے بھی لکھا۔میں نے جواب دیا کہ میں ایک غریب آدمی ہوں۔صرف پندرہ روپے ماہوار تنخواہ لیتا ہوں جس سے بمشکل میرا اپنا گزارہ ہوتا ہے۔شادی کے اخرجات برداشت کرنے کے ناقابل ہوں۔انہوں نے میرا وہی خط بھائی امام الدین صاحب کو دیدیا جنہوں نے جواب دیا کہ ہم آپ کا کوئی خرچ کرانا نہیں چاہتے تمام خرچ ہم خود برداشت کریں گے آپ کوئی فکر نہ کر میں بابو امام الدین صاحب کا گھر جہلم میں تھا ان دنوں ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم جہلم میں اسٹنٹ سرجن تھے۔ستمبر ۱۹۰۱ء میں شادی کے لئے میں صرف پندرہ ہیں روپے لے کر جہلم مرزا صاحب موصوف کے مکان پر چلا گیا۔حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلم میں نئے محلہ کے امام مسجد تھے۔اور بابوامام الدین صاحب کی بہنیں ان سے قرآن شریف پڑھا کرتی تھیں۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ بابو صاحب نے یہی کہا ہے کہ آپ کا کوئی ان کا ذکر بطور منشی امام الدین گڈس کلرک پنڈی الحکم مورخہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۰ء ص ۷ کالم۲ پر موجود ہے۔ماسٹر صاحب فرماتے ہیں کہ موصوف احمدی تھے ۱۹۰۶ء میں بمقام جہلم وفات پاگئے تھے ان کا ایک لڑکا فیروز الدین قادیان مدرسہ احمدیہ میں پڑھتارہا جو مولوی عبد الرحمن صاحب مولوی فاضل امیر جماعت قادیان کا ( جوان دنوں عبدالرحمان جٹ کہلاتے تھے ) ہم جماعت تھا فیروز الدین بعد میں جہلم چلا گیا شادی کی دو بچے ہوئے پھر جوانی میں فوت ہو گیا۔انکی لڑکی سردار رحمت اللہ صاحب ربوہ ( پسر ڈاکٹر فیض علی صاحب صابر مرحوم صحابی ) کی بیوی ہے۔خرچ نہیں کرائیں گے مگر پھر بھی آپ کی طرف سے ایک جوڑا کپڑے اور کچھ زیور ہونا ضروری ہے۔مرزا صاحب