اصحاب احمد (جلد 10) — Page 326
326 اس زمانہ میں جو مذاہب باطلہ اور اعتقادات ناحقہ نے بہ سبب میسر ہو جانے اور پڑھائے جانے علم منطق اور فلسفہ اور ریاضی وغیرہ کے مخالف دین متین کے عموماً رواج اور شہرت پا کر مسلمانوں کے دلوں پر اثر کر کے حقیقت دین اسلام اور قرآن شریف پر پردہ ڈال رہے ہیں۔اور نیچری اور عیسائی اور سماج اور دھرم سماج مقابلہ پر کھڑے ہو گئے ہیں اور مسلمانوں میں نادانی اور بے علمی اور مفقود ہونے وجود علماء راسخین کے سبب سے مخالفین کے تفوہات نے زیر ڈال دیا ہے۔ضرور تھا اور لازمی تھا کہ خدا تعالیٰ کسی ایسے شخص کو واسطے محافظت اپنے دین حق کے (کھڑا) کرتا۔جو مخالفین کا من کل الوجوہ مقابلہ کرتا اور عام خاص کو تزلزل سے بچاتا۔سوشکر ہے خداوند کریم رحمان و رحیم کا ، کہ ہندوستان میں آپ کی ذات کو یہ شرف دیا اور اپنے نبی مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو ایسے نازک وقت میں کہ جب ان کی دنیا میں کہیں نہ حکومت باقی ہے، نہ شردت ، نہ قدرومنزلت ، ملک پر ہر جگہ ذلیل نظر آتے ہیں۔تقویت بخشی دعا ہے، اسی سے جو سب کا خالق اور حاکم ( اور ) رب العلمین ہے کہ آپ کے الہامات کے منشاء اور اثر کو جیسی کہ اس کی مرضی ہے پورا کرے۔ہندوستان میں اس وقت اور ملکوں سے زیادہ اس کی ضرورت تھی۔سوشکر ہے اسی ہندوستان میں آپ کو شرف دیا۔جو آپ نے اپنی کتاب کے متن اور حاشیوں میں حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم وقرآن شریف کے باب میں درج فرمایا ہے۔اس میں کوئی مسلمان جاہل اور عالم سوائے امنا اور صدقنا کے ( اور کچھ ) زبان پر نہیں لاسکتا۔ہاں وہ زبان کھولے جس کو دین اسلام سے ظاہر اور باطن میں مس نہ ہو اور شرم و حیا بھی نہ ہو۔البتہ جن اشخاص کو حسد و تکبر غالب ہوگا۔وہ آپ کے الہامات اور پیشگوئیوں پر اعتراض کریں گے مگر اس عاجز کے خیال میں نہیں آتا ( کہ ) وہ ایسا کیوں خیال کرتے ہیں یا کریں گے جب (کہ) گزشتہ اولیاء اللہ اور عالمان دین سے ایسے الہامات اور کشف اور کرامت سنتے دیکھتے رہے ہیں۔اور ہرمست ، مدہوش ، دیوانہ کے در پے واسطے حاصل کر نے پیشگوئیوں کے پھرتے رہتے ہیں۔اور اس وقت کچھ لحاظ اتباع سنت ہونے یا نہ ہونے ( کا) اس شخص کا نہیں کرتے بلکہ خلاف مذہب کے ایسے لوگوں پر خیال نہیں کرتے۔جب ہم ایام گزشتہ میں جس کو سو برس نہیں گذرے جن کے دیکھنے والے اب تک موجود ہیں۔خاندان شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی اور ان کی اولاد، سید احمد صاحب مرحوم بریلوی کو دیکھ سن چکے ہیں۔اور ان کی کتابوں کو معائنہ کر چکے ہیں۔اور اس میں اس قسم کے الہامات ان کے پڑھ چکے ہیں۔پھر ہم اب کسی شخص پر اعتراض کریں۔جس پر اس قسم کے حالات وارد ہوں اور معلوم ہوں کیونکر انکار کے مستحق ہو سکتے ہیں؟ جب عموماً اس خاندان کی افضلیت اور باکمال ہونے کے (لوگ) قائل ہیں؟ یہ قائل ہونا خاص کسی پر منحصر نہیں۔اہل اسلام ہندوستان کیا