اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 11 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 11

11 ہوئے ۱۹۲۰ء میں وہاں سے اس عرصہ کی پنشن مل گئی۔جواب تک جاری ہے۔پھر بمبئی کے محکمہ ٹرانسپورٹ میں بطور وٹرنری اسٹنٹ قلیل عرصہ ملازمت کی لیکن جلد ہی آپ کو بمبئی کا رپوریشن میں میٹ (MEAT) انسپکٹر کی آسامی پر پونے دوصد روپیہ مشاہرہ پر لگا لیا گیا وہاں سے آپ ۱۹۴۰ء میں سبکدوش ہوئے تو پھر بمبئی میں آپ دوسری جگہ ۱۹۴۸ء تک کام کرتے رہے۔خدمات سلسلہ :۔بمبئی میں آپ تین سال تک صدر جماعت رہے۔جمعہ کی نماز آپ کے مکان پر ادا ہوتی تھی۔اور بغداد کے جس فوجی کیمپ میں آپ مقیم تھے اس میں صرف تین چار احمدی احباب تھے جنہوں نے آپ کو امام الصلوۃ وغیرہ بنالیا تھا۔تحریک جدید کے دور اول کے انیس سالہ پہنچ ہزاری مجاہدین میں شامل ہونے کی آپ کو اور آپ کی اہلیہ محترمہ کو تو فیق ملی۔(صفحہ ۱۳۳) دونوں کے چندے کی مقدار چھ صد چھبیس روپے ہے۔شدھی ملکانہ کے وقت آپ کو اپنے خرچ پر تین ماہ تک اعلائے کلمتہ اللہ کی توفیق عطا ہوئی آپ نے بفضلہ تعالیٰ سے جولائی ۱۹۲۰ء میں وصیت کی تھی جس کا نمبر ۱۸۱۷ ہے اس وقت آپ ٹرانسپورٹ بمبئی میں بطور وٹرنری اسٹنٹ کام کرتے تھے۔۱۹۲۱ء میں آپ نے دسویں حصہ کی بجائے اسے بڑھا کر نویں حصہ کی وصیت کر دی۔ہجرت بسوئے قادیان اور درویشی دور میں خدمات :۔۱۹۴۷ء میں برصغیر ہند و پاک کی تقسیم عمل میں آئی۔آپ اپریل یا نئی ۱۹۴۸ء میں وہاں سے کراچی اور پھر لاہور چلے آئے۔سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی تحریک پر آپ نے بھی ان قیامت سے ایام میں قادیان میں ہجرت کر جانے کے لئے اپنا نام پیش کیا۔پینتیس افراد کا یہ قافلہ جس کے امیر حضور کی طرف سے حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی اور نائب امیر حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی مقرر ہوئے تھے دوٹرکوں کے ذریعہ امئی ۱۹۴۸ء کو قادیان دارالامان پہنچا۔اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہے کہ ڈاکٹر صاحب قبول ہوئے۔اور درویشان قادیان میں شامل ہوکر سلسلہ حقہ کی خدمت اور مقامات مقدسہ کی آبادی وغیرہ کا فریضہ خلوص سے انجام دینے کی توفیق پارہے ہیں۔درویشی کے ابتدائی زمانہ میں جب قادیان اور اس کا ماحول احمدیوں کے لئے بے حد مسموم اور معاندانہ تھا جن درویشوں نے لوگوں کی مغائرت اور دشمنی کو موانست میں تبدیل کرنے میں مدد دی ان سابقون