اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 4 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 4

4 غیرت ایمانی کا واقعہ:۔آپ کی غیرت ایمانی کا یہ واقعہ بیان کرنے کے قابل ہے کہ بصرہ میں سلسلہ حقہ کی بہت مخالفت تھی۔احمدیوں کی تعداد بہت ہی تھوڑی تھی اور وہ کمزور حالت میں تھے۔ایک دفعہ ڈاکٹر صاحب کی یونٹ کے ہیڈ کلرک نے جو غیر احمدی تھا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف سب وشتم کا طریق اختیار کیا۔آپ کی غیرت ایمانی اسے برداشت نہ کر سکی اور آپ نے بے اختیار ہو کر اس کے منہ پر مکا دے مارا۔اور وہ گر گیا جس پر وہ سخت خشمگیں ہوا۔اور جذ بہ انتقام میں اس نے ڈاکٹر صاحب کی ملازمت کے سب کا غذات جلا دیئے جس سے آپ کو ملازمت کے حقوق کے حصول میں بہت وقت اور نقصان ہوا اور آپ ترقی سے محروم رہے۔یہ ہیڈ کلرک اور اس کے زیر اثر دیگر لوگ ہر بات میں آپ کو تنگ کرتے تھے وہاں احمدی کہلا نا جرم تصور ہوتا تھا۔اہلی زندگی:۔ڈاکٹر صاحب کی پہلی شادی فضل النساء صاحبہ سے ۱۹۰۷ء میں امرت سر میں آپ کے اقارب میں ہوئی۔دو تین سال کے بعد وہ فوت ہو گئیں۔۱۹۱۸ء میں آپ کی دوسری شادی حضرت سید عزیز الرحمن صاحب بریلوی کی صاحبزادی محترمہ سیدہ نصرت بانو صاحبہ سے ہوئی وہ اس وقت لاہور میں مقیم ہیں۔آپ نے ۱۹۱۸ ء میں بغداد سے شادی کے انتظام کے لئے سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں تحریر کیا تو حضور کی طرف سے جواب آیا کہ آپ قادیان آجائیں آپ کے دوستوں کے اقارب کے ہاں اچھے گھرانے میں رشتہ کرا دونگا۔چنانچہ آپ قادیان آگئے اور حضور کی تحریک سے یہ رشتہ ہو گیا۔اس شادی سے آپ کو قاضی محمد عبداللہ صاحب بھٹی ( یکے از ۳۱۳ صحابہ و سابق مجاہد انگلستان) اور حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب نیر مرحوم ( مجاہد اول مغربی افریقہ ) اور محترم محمد مکی خانصاحب مرحوم (مدفون بہشتی مقبره قادیان ) جیسے نیک سیرت افراد کا ہم زلف بننے کا موقع ملا۔محترم سید عبدالرحمن صاحب آپ کے برادر نسبتی ا مریکہ میں جماعت احمدیہ کی ایک بہت بقیہ حاشیہ :۔( قرض تعلیمی ) واپس وصول ہونا شروع ہوا۔چنانچہ ان میں سے خاص ذکر کے قابل ڈاکٹر عطر الدین صاحب ہیں۔جزاہ اللہ خیراً ( صفحہ ۷۸) نکاح کے متعلق الفضل میں مرقوم ہے کہ:۔۲۲ جون ۱۹۱۸ء کوسید عزیز الرمن بریلوی کی لڑکی نصرت بانو کا نکاح ڈاکٹر عطرالدین صاحب وٹرنری گریجویٹ سے پانچ سور و پیہ مہر پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے پڑھا۔خطبہ میں حضرت نے جماعت کو اس طرف توجہ دلائی کہ وہ تقویٰ کو ہی معیار شرافت سمجھیں اور ذات پات کی الجھنوں سے حتی الامکان بچیں۔اور سید صاحب کے بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر