اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 223 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 223

223 دو مسلمانوں سے بٹالہ کا راستہ دریافت کیا اور پوچھنے پر بتایا کہ ہم قادیان جارہے ہیں۔یہ سنتے ہی ان دونوں نے بے نقط گالیاں ماں بہن کی نکالنی شروع کر دیں کہ ان دونوں کو دیکھو انہوں نے داڑھیاں رکھی ہوئی ہیں۔مولوی معلوم ہوتے ہیں مگر نہ معلوم انہیں کیا ہو گیا ہے کہ مرزا کے پاس گمراہ ہونے جارہے ہیں۔یہ وہاں سے چل پڑے اور وہ مسلمان وہاں پر ہی کھڑے گالیاں دیتے رہے۔مولوی صاحب کے بھائی صاحب نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے مرزا صاحب بچے ہیں۔اب ہم کسی مسلمان سے راستہ دریافت نہیں کریں گے۔رات بٹالہ میں رہے اور دوسرے دن قادیان پہنچ گئے۔آپ کے کہنے پر تین دن بھائی صاحب نے استخارہ کر کے بتلایا کہ حضرت مرزا صاحب واقعی صادق ہیں۔اس لئے آپ بیعت کر لیں۔اور خود کسی اور وقت میں بذریعہ خط بیعت کر لینے کا اظہار کیا۔اور کہا کہ ہمارا باہمی معاہدہ تھا کہ آپ مجھے بیعت کے لئے نہیں کہیں گے۔بیعت :۔قادیان پہنچنے کے چوتھے روز آپ نے بیعت کا ارادہ کر لیا۔اس دن حضرت مسیح موعود کی طبیعت ناساز حضور کی عیادت کے لئے حضرت خلیفہ اول حضرت مولوی عبدالکریم صاحب، خواجہ کمال الدین صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب وغیر ہم بیت الفکر میں بیٹھے تھے کہ حضور کو مولا نا بقا پوری صاحب کے متعلق اطلاع دی گئی کہ وہ حاضر ہونا چاہتے ہیں حضور نے آپ کو بھی اندر آنے کی اجازت دی۔چونکہ اس وقت وہاں پر کوئی خالی کرسی یا موڑ ھا وغیرہ نہ تھا۔اس لئے مولوی صاحب نیچے بیٹھنے کے لئے جھکے ہی تھے کہ حضور نے فرمایا۔نہیں نہیں آپ میرے پاس چار پائی پر بیٹھ جائیں۔آپ جھجکتے ہوئے پاؤں نیچے لٹکا کر چارپائی پر بیٹھ گئے تو حضور نے کمال مہربانی سے فرمایا۔مولوی صاحب! میری طرح چار پائی پر پاؤں رکھ کر بیٹھ جائیں۔“ چنانچہ آپ حضور کے سامنے بیٹھ گئے اور عرض کی کہ حضور اب مجھے کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہیں رہا۔اور حضور نے تین چار روز یہاں قیام کرنے کا ارشاد فرمایا تھا۔آج چوتھا دن ہے۔میری بیعت لے لیں۔حضور نے ہاتھ بڑھایا اور آپ کی بیعت لے لی۔اس نظارہ سے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب جو وہاں تشریف فرما تھے۔بہت ہی متاثر ہوئے اور فرمایا۔مولوی صاحب ! اس طرح کی بیعت کرنا آپ کو مبارک ہو۔“