اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 211 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 211

211 موقع ملا۔نیک صحبت اور درس میں شمولیت اور حضور کی چند کتب کا مطالعہ آپ کے شرح صدر اور آپ کی سعید فطرت میں تخم ریزی اور آبپاشی کا موجب بنا۔آپ نے بیعت کے متعلق کسی سے مشورہ نہیں لیا آپ صرف بیعت کی خاطر مولوی مبارک علی صاحب کے ہمراہ دسمبر ۱۸۹۶ء میں قادیان پہنچے اور حضور کی بیعت سے مشرف ہوئے۔آپ نے حضرت رسول اللہ ﷺ کا سلام حضور علیہ السلام کو پہنچایا۔حضور نے وعلیکم السلام فرمایا۔آپ کو کئی بار پھر بھی حضور کی زیارت کا موقع ملا۔چنانچہ ایک دفعہ پھر بمعیت مولوی مبارک علی صاحب قادیان میں ایک دفعہ لاہور میں اور ایک دفعہ سیالکوٹ میں جب حضور بہ تعلق لیکچر سیالکوٹ تشریف لائے۔اور حضور جب بمقدمہ کرم دین جہلم جارہے تھے تو مولوی عبد الواحد خاں صاحب بھی سیالکوٹ کے دو اور صحابہ کے ہمراہ وزیر آباد سے حضور کی معیت میں ریل گاڑی میں جہلم گئے اور حضور کے ساتھ ہی واپس ہوئے۔تبرک :۔سیدہ حضرت ام المومنین اعلی الله در جانتہا نے از راہ شفقت آپ کو حضرت مسیح موعود کی گرم واسکٹ بطور تبرک عنایت فرمائی تھی۔جو آپ کے پاس ہے اس کی برکت کی تفصیل آپ کی روایات میں درج کی گئی ہے جو کتاب کے آخر میں درج ہیں۔اہلی زندگی :۔آپ بیان کرتے ہیں کہ قبول احمدیت کے گیارہ ماہ بعد میری شادی محترمہ غفور النساء صا حبه بنت منیر خاں سے ہوئی جو میرے رشتہ کے ماموں تھے۔اور ہاتھی باتری میں صو بیدار تھے۔والدہ مرحومہ ، بڑے بھائی رستم خاں مرحوم ، اور چند اور ا قارب واحباب کے ہمراہ میں شادی کے واسطے ملتان پہنچا۔چونکہ وہاں فوج میں ہمارے کچھ اقارب تھے جن کو بخوبی معلوم تھا کہ میں حضرت مسیح موعود کی غلامی میں آچکا ہوں اور وہ بھی تقریب نکاح میں شامل تھے نکاح خوانی کے وقت ایک فوجی افسر نے نکاح خواں مولوی سے کہا کہ لڑکا میرزائی ہے۔اور صو بیدار صاحب میرزائی نہیں آپ نکاح نہیں پڑھ سکتے ملاں بیچارہ ڈر گیا۔کیونکہ فوج کی مسجد کا امام تھا۔ماموں صاحب نے مجھے کہا کہ آپ کہہ دیں کی میں میرزائی نہیں۔گو مجھے ابھی تک اہمیت کا پورا احساس نہیں تھا۔آپ بیان کرتے ہیں کہ شروع میں ہندوستان میں تین توپ خانے ہاتھیوں کے بھی تھے ملتان جھانسی اور سکندر آباد دکن میں گھوڑوں کے توپ خانہ کی طرح ہاتھی توپ خانہ میں بھی چھ تو ہیں ہوتی تھیں اور ایک توپ میں دو ہاتھی لگتے تھے گویا ایک توپ خانہ بارہ ہاتھیوں پر مشتمل ہوتا تھا۔اور سپاہی مہارت، نوکر ، بہت بڑاعملہ ہوتا تھا۔اور با قاعدہ ہند وستانی اور یور چین افسر ہوتے تھے۔