اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 210 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 210

210 مولوی عبدالواحد خانصاحب غفور النساء صاحبہ (اہلیہ) ولدیت۔وطن وغیرہ :۔حضرت مولوی عبد الواحد خانصاحب کے والد محمد رمضان خاں رسالدار میجر رسالہ نمبرا راجپوت، قوم سورج بنسی راجپوت ساکن سلطان پور (یو پی) بوجہ تبادلہ صدر بازار سیالکوٹ چھاؤنی میں مقیم ہو چکے تھے۔اور مولوی صاحب وہاں فروری ۱۸۷۱ء میں پیدا ہوئے۔اور میٹرک پاس کیا اور مولوی عالم تک تعلیم پائی۔آپ اور محمد علی خانصاحب شاہجہانپوری مرحوم دونوں نے گائیڈ کا کام بھی کیا ہے وائسریگل لاج میں بطور گائیڈ رجسٹرڈ تھے۔شاہی مہمان جو ہندوستان ، برما، رنگون اور ریاستوں میں سیاح کے طور پر آتے تھے ان کے لئے بطور گائیڈ کام کرتے تھے۔اس سلسلہ میں برما ، رنگون بمبئی ، کلکتہ ، دہلی ، آگرہ بنارس، جے پور ، جودھ پور، الہ آباد اور ریاستوں میں سیاحوں کے ساتھ جانا ہوتا تھا۔پانچ سال تک آپ نے یہ کام کیا اس کے علاوہ آپ نے ہمیشہ کافی شاپ یا کنٹین کے ٹھیکے لئے ہیں۔اور آپ ملازموں کے ذریعہ ان کا کام چلاتے تھے۔۱۹۳۶ء میں جب آپ کو کوئٹہ میں خاکسار نے دیکھا اس وقت آپ میجر جنرل ہڈلٹسن کے ہاں بطور میجر ملازم تھے اور اس کے قیام و طعام اور خدام اور اصطبل کا حساب کتاب آپ کے سپرد تھا۔جنرل موصوف ایک طویل عرصہ تک سوڈان میں بطور وائسرائے متعین رہ چکے تھے۔مولوی صاحب نے چھ سات سال جھانسی میں ملازمت بھی کی تھی۔قبول احمدیت :۔آپ سیالکوٹ میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے درس میں حاضر ہوتے تھے اور ان سے فارسی بھی پڑھی حضرت میر حامد شاہ صاحب اور ان کے والد حکیم میر حسام الدین صاحب جیسے بزرگوں سے اکثر و بیشتر ملاقات ہوتی۔حضرت مسیح موعود کے ایک استاد مولوی فضل احمد صاحب کے بیٹے ابو یوسف مولوی مبارک علی صاحب صدر بازار چھاؤنی سیالکوٹ میں امام مسجد بھی تھے اور متولی بھی۔ان کی صحبت میں رہنے کا خاکسار کا تعارف آپ سے ۱۹۳۶ء میں کوئٹہ میں ہوا تھا۔میری اور میرے اقارب کی خوش قسمتی ہے کہ اس وقت بھی ہماری خط و کتابت ہے۔فالحمد للہ۔اور یہ سارے حالات آپ ہی سے حاصل کر کے ان کی تکمیل کی ہے۔