اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 180 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 180

180 صاحب بتلاتے ہیں۔** آپ کی پہلی اہلیہ حاکم بی بی سکنہ موضع بن باجوہ (تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ ) کے بطن سے بقیہ اگلے صفحہ پر بیعت و زیارت :۔آپ محترم چوہدری غلام حسین صاحب کے پڑوسی تھے۔اور ان کی تبلیغ سے ہی اللہ تعالیٰ نے احمدیت میں شمولیت کا شرف بخشا۔آپ کا اپنا بیان درج ذیل ہے :۔یہ سب پہلے ہمارے چک میں سے چوہدری غلام حسین صاحب نے بیعت کی تھی۔ان کی زبانی حضرت مرزا صاحب کی باتیں سنتا تھا اور مخالفت نہ کرتا تھا۔میرے لڑکے اللہ رکھا نے مجھ سے ایک ماہ پہلے بیعت کی۔میں نے انداز ۱۹۰۶ء میں بیعت کی۔آخر میں قادیان جانے کے ارادہ سے روانہ ہوا۔راستہ میں چوہدری حاکم علی صاحب پنیار ملے۔وہ بھلوال کے اسٹیشن سے قادیان اپنے لڑ کے غلام مصطفیٰ کے نکاح کے لئے جا رہے تھے مل کر بڑی خوشی ہوئی۔میں نے قادیان پہنچ کر چھ دن قیام کیا۔ارد گرد کے گاؤں کے لوگوں سے حضرت مرزا صاحب کے متعلق دریافت کیا۔لوگوں نے کہا یہ پاکھنڈ بنایا ہوا ہے لیکن مجھے کوئی پاکھنڈ نظر نہ آتا تھا۔بیعت کے بعد میں نے مولوی نورالدین صاحب کو دیکھا وہ صحن کے ایک طرف تھے میری محبت نے جوش مارا اور ان سے ملنا چاہا لیکن انہوں نے اشارہ کیا۔حضور کی طرف کہ اس کے لئے وہی جگہ ہے۔میں وہ نہیں ہوں۔اس کے مستحق وہی ہیں۔میں روز حضرت صاحب کے ساتھ مدرسہ ہائی سکول کی طرف سیر کو جاتا۔آخر ایک دن حضرت صاحب بقیہ حاشیہ: اللہ رکھا مرحوم اور غلام علی پیدا ہوئے۔دوسری اہلیہ محد بی بی قوم مہاجر اور چوتھی اہلیہ حاکم بی بی قوم باجوہ سکنہ موضع قلعہ راجکور وضلع گوجرانوالہ تھیں ان دونوں سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔تیسری اہلیہ ریشم بی بی قوم کلو سکنہ موضع بہلولہ ( ضلع سیالکوٹ ) کے بطن سے اقبال بیگم پیدا ہوئیں۔محترم چوہدری غلام حسین صاحب ( والد استاذی المکرم مولوی محمد یار صاحب عارف سابق مجاہد انگلستان حال مقیم سرگودہا) بفضلہ تعالیٰ زندہ ہیں۔آپ چک نمبر ۹۸ میں آباد ہیں۔حضرت چوہدری حاکم علی صاحب مدفون بہشتی مقبره قادیان ( تاریخ وفات ۶/۱/۴۲) غلام مصطفیٰ ان کے فرزند زندہ ہیں۔حضرت چوہدری حاکم علی صاحب کے فرزند غلام مصطفی کا نکاح حضرت مسیح موعود کی موجودگی میں حضرت مولوی نورالدین صاحب نے پانصد روپیه مهر پر محترم زینب بی بی صا حبه دختر مکرم با بو غلام حسن صاحب سکنه لومیر یواله (ضلع گوجرانوالہ ) سے ۲۶ مارچ ۱۹۰۸ء کو پڑھا تھا۔( 50 ) گویا چوہدری نتھے خانصاحب کی بیعت اور آخر مارچ ۱۹۰۸ء کی