اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 181 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 181

181 ہے۔اس سے ان کی روایت کی تصیح ہو جاتی ہے۔اور قریب قریب آپ کی تاریخ بیعت کا تعین ہو جاتا ہے۔نے نماز کے بعد اعلان کیا کہ جس جس نے بیعت کرنی ہو وہ کر لے۔چنانچہ میں بھی تیار ہو گیا جس وقت میں حضرت صاحب سے مصافحہ کرنے لگا تو محبت نے اتنا جوش مارا کہ قریب تھا کہ حضرت صاحب کی ہتھیلی کو کاٹ کھاتا کہ حضرت صاحب نے میرے ماتھے کو ہاتھ سے پکڑا اور کہا کہ ایسا نہیں کیا کرتے۔کیونکہ میں نے دل میں حضور کے ہاتھ کو کاٹنے کا مصمم ارادہ کر لیا تھا۔آخر میں نے بیعت کی۔اس وقت حضرت صاحب سفید ململ کی پگڑی باندھے ہوئے تھے جسے مایہ ( یعنی کلف) لگی ہوئی تھی۔اور آپ کی داڑھی مہندی سے سرخ تھی۔حضرت صاحب کا قد درمیانہ رنگ گندم گوں تھا۔سیر کو میل ڈیڑھ میل تک جایا کرتے تھے۔اس وجہ سے کہ لوگوں کی توجہ اور چہرہ حضور کی طرف ہوتا تھا۔رستے کی کچھ خبر نہ ہوتی تھی۔اس لئے راستے میں لوگوں کے کپڑے جھاڑیوں وغیرہ سے پھٹ جاتے تھے۔میں نے دیکھا کہ حضرت صاحب نماز میں سجدہ کرتے وقت ہاتھ جائے نماز پر گھسیٹتے ہوئے لے جاتے تھے جس سے دری کے شکن نکل جاتے تھے۔حضرت صاحب مولوی نور الدین صاحب کے دائیں طرف کھڑے ہوا کرتے تھے۔سیرت :۔آپ چندوں میں با قاعدہ تھے۔چندہ تعمیر مسجد لندن میں اور چندہ احمدیہ ہال سیالکوٹ اور چندہ خلافت جو بلی فنڈ میں بھی حصہ لیا تھا۔یہ روایت اخویم مولوی عبد الرحمن صاحب انور نے ان سے ۱۹ جولائی ۱۹۳۳ء کوسن کر قلمبند کی تھی۔اور آپ کی تصویر بھی خودا تاری تھی جو محفوظ ہے دیگر کو الف بھی اخویم موصوف ہی نے مہیا فرمائے ہیں۔ابھی یہ معلوم