اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 101 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 101

101 زندگی گذار سکوں۔مجھے ایسے مال وزر کی ضرورت نہیں جو میری ایمان والی زندگی میں مخل ہو۔اور مجھے ایمان صالح کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا کر۔سلسلہ کے لٹریچر میں ذکر :۔سلسلہ کے لٹریچر میں آپ کا ذکر کثیر موجود ہے چند مقامات کا ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے:۔ا۔ایک پیشگوئی کے گواہ:۔۷ مارچ ۱۹۰۷ء کو حضرت مسیح موعود کو الہام ہوا کہ ” چھپیں دن یا یہ کہ پچھیں دن تک ایک آتشیں گولے کی شکل میں یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔یہ گولہ پنجاب کے متعدد مقامات پر دیکھا گیا۔حضور کو جن باون احباب نے بذریعہ خطوط اطلاع دی۔ان کے اسماء مع خلاصہ خطوط حضور نے درج فرمائے۔پچاسویں نمبر پر تاریخ خط ۳ اپریل ۱۹۰۷ ء درج کر کے غلام احمد۔کریام اور خلاصہ خط آسماں اے غافلواب آگ برسانے کو ہے“۔درج فرمایا۔(33) ۲۔مشاورت میں شمولیت :۔آغاز مشاورت سے تا صحت بطورنمائندہ آپ کو بالعموم مشاورت میں شمولیت کا موقع ملتا رہا۔اور متعدد بار آپ سب کمیٹیوں کے ممبر بھی مقرر ہوئے۔آخری چند ایک میں غالباً طویل علالت کے باعث آپ شرکت سے معذور تھے۔اولین مشاورت منعقدہ ۱۹۲۲ء جس میں باون نمائندگان جماعت اور تمہیں نمائندگان مرکزی شامل ہوئے تھے۔اس وقت سلسلہ پر نا قابل برداشت مالی بار تھا۔ایک لاکھ روپیہ کا قرض تھا۔اس لئے چندہ خاص کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا۔اور سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے خود ہر جماعت کے لئے اس کی مقدار مقرر فرمائی۔نیز مستقل تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔بالخصوص فصل کے موقع پر با شرح اور " احتیاط اور چستی کے ساتھ فصلانہ کی وصولی کے لئے اضلاع کے لئے انسپکٹر مقرر کئے گئے۔چنانچہ اضلاع جالندھر، ہوشیار پور اور لدھیانہ کے لئے حاجی صاحب اور دو اور دوست مقرر کئے گئے۔(رپورٹ صفحہ ۵۴۱) ی رپورٹ ہائے متعلقہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مشاورت ہائے ۱۹۳۰ ء ،۱۹۳۲ء ۱۹۳۳ ، اکتوبر ۱۹۳۶ء میں بیت المال ،۱۹۳۹ء میں نظارت علیا، ۱۹۲۳ء ، ۱۹۲۷ء ، ۱۹۲۸، واپریل ۱۹۳۶ء میں اشاعت اسلام یا دعوت وتبلیغ وانسداد ارتداد یا صرف دعوة وتبلیغ ۱۹۲۴ء ، ۱۹۲۵ ۱۹۳۴ء میں تعلیم وتربیت، ۱۹۲۹ء میں امور عامہ اور ۱۹۳۱ء میں نظارت بہشتی مقبرہ کی سب کمیٹیوں میں آپ کو ممبر مقرر کیا گیا تھا۔۱۹۳۵ء ، ۱۹۳۷ء ، ۱۹۳۸ء ۱۹۴۰ء میں بھی آپ مشاورت ہائے بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر