اصحاب احمد (جلد 10) — Page 75
75 حاجی غلام احمد صاحب ولادت۔خاندانی حالات: حضرت حاجی غلام احمد جیسا انمول موتی ۶ ۷۔۱۸۷۵ء میں چوہدری گامن خاں (سکنہ موضع کر یام۔تھانہ راہوں تحصیل نواں شہر ضلع جالندھر ) کو تین بیویوں میں سے دوسری اہلیہ خیراں بیگم کے بطن سے عطا ہوا۔نواں شہر سے یہ موضع جانب غرب دو میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔گاؤں کی سطح زمین سے کافی بلند ہے۔۱۹۴۷ء میں گاؤں کی آبادی تین ہزار نفوس پر مشتمل تھی جن میں سے چھٹا حصہ گویا نصف ہزار کی تعداد میں جماعت احمدیہ سے وابستہ تھے۔اس موضع کی زرعی اراضی قریباً چار ہزارا یکڑ کے اکثر حصہ کے مالک راجپوت قوم کے افراد تھے جن میں سے قریباً نصف حصہ افراد جماعت احمدیہ کی ملکیت تھا۔حاجی صاحب ایک معزز راجپوت خاندان کے نونہال تھے اور آپ والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔دوسرا بھائی عبدالرحمن نو عمری میں ہی وفات پا گیا تھا۔اس خاندان کی ملکیت قریباً ڈیڑھ صدا یکڑ تھی جس میں سے حاجی صاحب کو نصف گو یا تین مربعے حصہ میں آئے تھے ہمدردی ، شفقت علی خلق اللہ اور سخاوت اس خاندان کی مشہور صفات تھیں جن کی وجہ سے یہ خاندان بانڈوں کا خاندان یعنی بانٹنے والوں کے نام سے مشہور تھا حاجی صاحب والد صاحب کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ:۔وو بہت فیاض تھے (ان کو ) لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کا خیال رہتا۔اکثر غرباء جن کو پیسہ یا روپیہ کی ضرورت ہوتی تو والد صاحب اپنے پاس سے یا قرض لے کر بھی ان کو دے دیتے۔جناب والد صاحب کی وفات کے بعد اس قسم کا بہت سا قرضہ میں نے ادا کیا۔(20) عہد طفولیت تعلیم اور قبول احمدیت :۔” میں کیونکر احمدی ہوا؟“ کے عنوان کے تحت آپ فرماتے ہیں۔میری عمر اس وقت چونسٹھ سال کی ہے میرے والد کا نام گامن خاں ذات راجپوت سکنہ کر یام ہے۔میں نے فروری ۱۹۰۳ء میں بیعت کی۔بیعت سے پہلے جب میں پرائمری کی تعلیم حاصل کرتا تھا۔اس وقت سے نماز پڑھا کرتا تھا۔اور گاہے گا ہے جمعہ راہوں میں ادا کیا کرتا تھا۔جس میں کثرت سے آدمی جمع ہوتے تھے۔اس بیان کے نقل کرنے میں رابط عبارت کے لئے خاکسار مئولف نے بعض الفاظ خطوط وحدانی میں زائد کر کے نشان لگا دیا ہے اس نشان کے بغیر خطوط وحدانیاں اصل عبارت کا حصہ ہیں۔