اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 72 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 72

72 اور سکینت نازل کر دی۔احمدیت کی آغوش میں :۔فرماتے ہیں کہ میں نے قریب دو ماہ دارالامان میں قیام کیا۔خدا کا فرستادہ نبی ہم میں مغرب سے عشاء تک بیٹھتا اور میں اس سے نور حاصل کرتا۔اور دربار شام سے لطف اندوز ہوتا۔دن کے وقت حضرت مولوی صاحبان کی صحبت سے مستفید ہوتا۔آخر میرے دل نے فیصلہ کیا کہ قادیان والے جو اسلام پیش کرتے ہیں اس کا مقابلہ کوئی مذہب کر ہی نہیں سکتا۔یہ واقعی نور ہی نور ہے۔اور تمام مذاہب میں ظلمت۔اس کے بعد میں بیعت کر کے واپس چلا گیا۔اور چونگی میں محرر ہو گیا۔اور جب موقع ملتا حضور کی خدمت میں حاضر ہوتا۔حضور کا ارشاد گرامی خدمت والدین کے متعلق اور شیخ صاحب کی سیرت :۔شیخ صاحب بیان کرتے تھے کہ میری تبلیغ سے بفضلہ تعالیٰ والدہ اور بھائی بھی احمدی ہو گئے۔میں نے شادی کرنا چاہی تو والدہ نے اس خیال سے کہ میں ان سے الگ ہو جاؤں گا رضامندی ظاہر نہ کی اور جب میں نے شادی کر لی تو اکثر اوقات میری بیوی پر سختی کرتیں اس کے متعلق کچھ عرض کرتا تو برامنا تیں۔الغرض والدہ حضور کی خدمت میں دارلامان چلی گئیں اور نہ معلوم حضور سے کیا کیا میری شکایت کی جب وہ واپس آئیں تو حضور کے دست مبارک کا ایک خط ساتھ لائیں جس پر حضور نے اپنے دستخط کرنے کے علاوہ اپنی مہر اور نشان انگوٹھا بھی ثبت فرمایا تھا۔حضور کا مکتوب گرامی یہ تھا۔اگلے صفحہ پر ) آپ کی بیعت ۱۹۰۳ء کی ہے چنانچہ البدر میں بیعت کنندگان میں آپ کا نام دوبار درج ہے :۔(الف) میاں شیخ نتھو صاحب ( بنور ) پٹیالہ :۔میاں عبدالوہاب صاحب ( بنور ) پٹیالہ : مورخه ۱/۵/۰۳صفحہ ۱۲۰ کالم ۲) (ب) عبدالوہاب ولد چندو۔بنوڑ پٹیالہ : - نتھو ولد چھوٹا بنوڑ پٹیالہ : مورخه ۲۴/۷/۰۳ صفحه ۲۱۶ کالم (۲) چونکہ شیخ عبدالوہاب صاحب کے بیان سے یقینی طور پر ثابت ہے کہ آپ نے قادیان آ کر مطمئن ہوکر بیعت کی تھی پھر بیعت دوبار کیونکر شائع ہوئی اس کی یہ توضیح ہے کہ ممکن ہے کہ چونکہ اول بار جلد بیعت شائع نہیں ہوسکتی تھی۔دوسری بار پھر سہوا اس کام کے مہتم نے شائع کر دی آپ کی وصیت کے ریکارڈ سے یہ معلوم ہوا کہ آپ کا وصیت نمبر ۵۸۶۱ مورخہ ۲۹/۳/۲۱ ہے اس وقت آپکی عمر پینسٹھ سال تھی۔۱۰ اکتو بر ۱۹۵۴ء کو ۷۸ سال کی عمر میں فوت ہوکر بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔وصیت جائیداد منقولہ مالیتی تین صد روپیہ اور پنشن ساڑھے سات روپے کے دسویں حصہ کی تھی ایک فرزند منظور حسین صاحب رتن باغ میں رہتے تھے یہ معلوم نہیں آجکل کہاں ہیں اور کیا مرحوم کی اور اولا د بھی تھی یا نہیں۔