اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 64 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 64

64 دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ میں درخواست کروں۔شاید مجھ کو قادیان میں رہنے کا موقع مل جائے میں نے لکھا کہ میں نو مسلم ہوں۔اسلام کے متعلق زیادہ واقفیت نہیں رکھتا اس لئے مضمون وغیرہ تو نہیں لکھ سکتا البتہ حساب کتاب کا کام کرسکوں گا۔میں اس وقت ریاست میں ملازم ہوں لیکن میری خواہش ہے کہ میں اسلام کی تعلیم سیکھوں۔اگر آپ مجھ کو مفید مطلب سمجھیں تو میں قادیان آنے کے لئے تیار ہوں۔درخواست دینے کے بعد مجھے ایک رویا بھی ہو چکا تھا کہ میں قادیان میں ہوں ایک کمرہ میں بیٹھا ہوں وہاں اور بھی لوگ ہیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے مجھے بلایا اور ایک کتب خانہ کی الماریوں کی چابیوں کا گچھا میرے سپرد فرمایا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جب میں بلانے پر قادیان پہنچا تو تفخیذ الاذہان کی لائبریری میں دو ہزار کے قریب کتب تھیں۔اس کی چابیوں کا گچھا میرے سپرد کیا گیا۔حالانکہ اس سے قبل میں نے تفخیذ الاذہان کی لائبریری بھی نہ دیکھی تھی۔حضرت صاحب نے لکھا کہ بتاؤ کس قدر گزارہ پر تم یہاں آ سکتے ہو۔میں نے عرض کیا کہ قادیان کے حالات سے مجھ کو واقفیت نہیں کہ کس قدر رقم میں میرا وہاں گزارہ ہو جائے گا بہر حال میں دس روپے ماہوار تک تنخواہ پر آجاؤں گا میری والدہ چونکہ ہندو ہیں حین حیات ہیں پانچ روپے ماہوار میں ان کو بھیج دیا کروں گا اور پانچ روپے میں خود گذارہ کرلوں گا۔اور لکھا کہ اگر اس سے کم میں وہاں میرا گزارہ ممکن ہوا تو میں اس سے بھی کم لینے کیلئے تیار ہوں حضرت صاحب نے تحریر فرمایا۔آ جاؤ۔چنانچہ میں نے اپنی ملازمت سے چھ ماہ کی رخصت بلا تنخواہ لی اور ۲۶ دسمبر ۱۹۱۰ء کو قادیان حاضر ہو گیا۔بعد میں قادیان سے ہی اپنا استعفے لکھ کر بھیج دیا۔اس وقت سے تقسیم ملک تک اللہ تعالیٰ نے مجھ کو قادیان میں رہنے کی توفیق دی۔دینی تعلیم کا اللہ تعالیٰ نے ایسے انتظام کیا کہ قادیان میں میری مصاحبت حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب حلال پوری سے ہوگئی۔ایک عرصہ تک ہم دفتر تفخیذ الاذہان میں اکٹھے رہتے رہے۔ہمارا کٹھا کھانا پکتا اور اکٹھے ہی کھاتے۔حضرت مولوی صاحب کا سلوک مجھ سے بھائیوں کا سا تھا فرمایا کرتے تھے کہ آپ کی شکل و شباہت پر میرا ایک بھائی تھا جو فوت ہو گیا ہے اس وجہ سے بھی مجھ کو آپ سے بہت محبت ہے۔اللہ تعالیٰ ان پر بہت بہت برکتیں اور رحمتیں نازل فرمائے۔ان کی مہربانی اور توجہ سے میں نے ان سے قرآن کریم کا ترجمہ اور بعض کتب حدیث کی پڑھ لیں۔حضرت خلیفہ امسیح اول کے ارشاد کی تعمیل میں قادیان آ کر بھی میں نے اپنی بیوی اور بچوں کو یہاں لانے کی کوشش جاری رکھی۔اس غرض کے لئے کئی دفعہ اپنے وطن گیا۔ایک دفعہ مستری رحمت اللہ صاحب احمدی ساکن