اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 65 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 65

65 بنوڑ کو اپنے ہمراہ لے کر اپنے سسرال موضع نند پور بھی گیا۔اور ایک مسلمان عورت کے ذریعہ اپنی بیوی کو مسلمانوں کے گھر ملنے کے لئے بلایا لیکن اس نے کہلا بھیجا کہ اگر اپنی زندگی کی خیر چاہتے ہو تو یہاں سے فوراً چلے جاؤ۔میرے والدین کو پتہ لگ گیا تو تمہاری خیر نہیں۔پھر ایک دفعہ مجھ کو اطلاع ملی کہ وہ میری والدہ محترمہ کو ملنے کے لئے ہمارے شہر بنوڑ میں آئی ہوئی ہے۔یہ خبر سنتے ہی میں اس کو ملنے گیا۔گو ہندؤوں کی طرف سے اس کی نگرانی اور حفاظت کا پورا انتظام تھا لیکن پھر بھی اس کے ملنے کی صورت پیدا ہوگئی۔اس دفعہ اس نے قادیان میں میرے ساتھ آنے کیلئے آمادگی ظاہر کی۔ہم نے چلنے کے لئے رات کا وقت مقرر کیا لیکن اس نے پھر ہند ورشتہ داروں کو اطلاع کر دی جب وقت مقررہ پر میں اس کو لینے کے لئے گیا تو ہندو اکٹھے ہو کر اچانک مجھ پر حملہ آور ہوئے میں ان کے نرغہ میں بری طرح پھنس گیا۔ہمارے محلہ کے مسلمانوں نے جو نہیں شور سنا فوراً ہمارے مکان میں آداخل ہوئے اور مجھے ہندوؤں کے نرغہ سے نکال کر اپنے گھیرے میں لے لیا اور محفوظ جگہ پر پہنچادیا۔اپنی بیوی کی اس حماقت سے مجھ کو شبہ ہوا کہ ہندوؤں کے منصو بہ اور مشورہ سے دانستہ طور پر مجھ کو مارنے کے لئے یہ تدبیر سوچی گئی تھی لیکن خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے میری حفاظت فرمائی اور ان کے شر سے بچالیا۔دراصل میرے خسر کی نرینہ اولا دفوت ہو چکی تھی۔میری بیوی کو والدین کی جائیداد کا لالچ بھی تھا جو مسلمان ہونے کی صورت میں اس کو نہ مل سکتی تھی اس لئے وہ مسلمان ہو کر اپنے والدین کو ناراض نہ کرنا چاہتی تھی۔غرض مجھ کو اس کے لانے میں کامیابی نہ ہوئی۔آخر ۱۹۳۰ء میں میری بیوی ، دونوں لڑکے اور خسر طاعون سے فوت ہو گئے۔افسوس میری اولاد کا ایک حصہ مشرف بہ اسلام ہونے سے محروم رہ گیا۔انا لله و انا اليه راجعون۔دوسری شادی : ۱۹۱۴ء میں حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ الہ تعالی نصرہ العزیز کی مہربانی سے میری دوسری شادی کا انتظام ہوا۔میری بیوی عائشہ بیگم حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پروردہ ہیں۔ان کے والد کرم داد خان مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس خادمانہ حیثیت سے رہتے تھے۔اصل وطن ان کا موضع ڈھینگ ضلع گجرات تھا۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور بعض دیگر بزرگوں کی روایات میں ان کا ذکر آتا ہے غالبا ۱۹۰۴ء میں ان کا وصال ہوا تھا میری بیوی کی والدہ کا نام سلطان بی بی تھا۔جو موضع کیٹری کی رہنے والی تھیں۔اور مغل قوم سے تھیں۔حضرت صاحبزادہ میرزا بشیر احمد صاحب کو انہوں نے دودھ پلایا تھا۔آپ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ میری بیوی کا ایک بھائی عبدالرحمن نامی تھا جو بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر