اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 437 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 437

437 اس وقت دکھا سکتا ہوں اس پر وہ سناٹے میں آ گیا۔اور لوگوں پر اس کا بڑا اثر ہوا ایک دفعہ اس نے الہام إِنِّي مُهِينٌ مَنْ اَرَادَ إِهَا نَنگ کے متعلق سوال کیا کہ کیا یہ خدا نے آپ کو بتایا ہے؟ حضور نے فرمایا کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اس کا مجھ سے وعدہ ہے اس نے پوچھا کہ کیا جو آپ کی ہتک کرے وہ ذلیل وخوار ہو گا ؟ فرمایا بے شک اس نے کہا کہ اگر میں کروں؟ فرمایا چاہے کوئی کرے اس نے دو تین دفعہ یہ پوچھا۔آپ یہی جواب دیتے رہے کہ چاہے کوئی کرے۔(۸۵)۔یہ مجسٹریٹ بعد ازاں دماغی خلل میں مبتلا ہو کر موت کی آغوش میں چلا (AY) گیا۔(۸۲) ڈاکٹر عبدالحکیم کے سلسلہ میں اظہار غیرت ڈاکٹر عبدالحکیم پیٹالوی نے قرآن مجید سے یہ غلط استدلال کیا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا نجات کے لئے ضروری نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سمجھانے پر بھی وہ اپنی بے راہ روی میں بڑھتا گیا۔اس پر منشی صاحب نے غیرت ایمانی کا اظہار کیا اس بارے میں مرقوم ہے:۔اخویم منشی حبیب الرحمن صاحب رئیس حاجی پور نے ڈاکٹر مرتد سے خرید کی ہوئی چند ایک کتابیں اسے واپس کی ہیں اس پر (وہ) یکدفہ آگ بولا ہو کر نا پاک طبع لوگوں کی طرح حضرت مرزا صاحب کو گالیاں۔۔۔دینے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔نا پاک الفاظ۔بولنے لگ پڑے ہیں (ایسے) لوگوں میں یہی دستور چلا آیا ہے کہ جب کسی پر خفا ہوتے ہیں۔تو اس کے پیر کو گالیاں دیا کرتے ہیں“۔(۸۷) ڈاکٹر مذکور نے حضرت اقدس کی شدید مخالفت شروع کر دی اور حضور کے خلاف متعدد پیشگوئیاں شائع کیں جو جھوٹی ثابت ہوئیں اور حضور نے جو حقیقۃ الوحی میں تحریر فرمایا کہ اس نے اپنے مرتد ہونے پر ایسی مہر لگادی ہے کہ اب غالبا اس کا خاتمہ اسی پر ہو گا۔(۸۸) چنانچہ اس کا ایسا ہی انجام ہوا۔جلسه تشخيذ الأ ذبان ۲۵ دسمبر ۱۹۰۶ء کو منعقدہ جلسہ تشحید الاذہان کے سلسلہ میں مرقوم ہے کہ چونکہ مہمانوں کی کثرت ہے جن کے لئے وضووغیرہ کا بار بار انتظام ہونا مشکل ہوتا ہے اور ان سب کے کھانے کا ایک جگہ انتظام ضروری ہے اس لئے ظہر وعصر کی نمازیں مسجد اقصیٰ میں جمع کی گئیں اور حضرت اقدس علیہ السلام اندرون خانہ تشریف لے گئے۔نئے مہمان خانہ کے ساتھ کے میدان میں احباب جلسہ تفخیذ الاذہان کے لئے جمع ہوئے۔جہاں چٹائیوں اور دریوں کے ایک فراخ فرش کے علاوہ بنچوں اور میزوں اور کرسیوں کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔صدر جلسہ حضرت حکیم