اصحاب احمد (جلد 10) — Page 438
438 مولوی نورالدین صاحب تھے۔تلاوت قرآن ہوئی پھر بانی انجمن ہذا حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے ایک مختصر تقریر زمانہ کی حالت اور ضرورت مصلح کے بارے کی۔اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو نور بھیجا ہے اس کے ذریعہ سے احمدی نوجوانوں میں محبت اور یگانگت قائم کرنا اور تاریخ زمانہ بتا کر ان کو ہدایت پر لگانا اور نو جوانوں کو اپنی اور دوسروں کی اصلاح کی طرف توجہ دلانا اس انجمن کا اصل مقصد ہے۔اسی مقصد کے حصول کے لئے رسالہ تشخیز الا ذہان جاری کیا گیا ہے۔اور سالانہ جلسوں میں تقاریر کی جاتی ہیں۔(پھر) سیکرٹری انجمن حافظ عبدالرحیم صاحب نے ان بزرگوں کا شکر یہ ادا کیا جنہوں نے انجمن اور اس کے مقاصد میں امداد کی ہے۔اور شکریہ میں حضرت مولوی نورالدین صاحب اور خادم راقم ( یعنی مفتی محمد صادق صاحب ) اور ایڈیٹر صاحب الحکم اور منشی حبیب الرحمن صاحب اور سیٹھ عبدالرحمن صاحب اور بابو اقبال علی (صاحب) اور دیگر احباب کا بالخصوص ذکر کیا۔۔" (رضی اللہ عنہم اجمعین) پھر حضرت صاحب صدر مولوی نور الدین صاحب نے الله نُورُ السَّمَواتِ وَالأَرض الخ پر تقریر فرمائی اور بتایا کہ ہر انجمن ہر شخص اور ہر جماعت کی کامیابی کا واحد راستہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا ، عاجزی اور گڑ گڑانا اور رونا اور تسبیح اور تنزیہہ بار چھالے کرنا ہے۔(۹ مکتوبات حضرت اقدس بنام منشی صاحب (۸۹) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکتوبات علی الترتیب حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب ، حضرت منشی ظفر احمد صاحب اور حضرت خان عبدالمجید خاں صاحب رضی اللہ عنہم کے نام مکتوبات احمد یہ جلد پنجم میں درج کرتے ہوئے۔تعارفی نوٹ میں حضرت عرفانی صاحب رقم فرماتے ہیں۔جماعت کپورتھلہ کے وہ بزرگ جو جماعت مذکور کے بانیوں میں سے تھے۔اور جنہوں نے اپنے عشق دوفا کا وہ عملی ثبوت دیا کہ خدا کے برگزیدہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں جنت میں اپنے ساتھ ہونے کا وعدہ دیا۔گویا یہ وہ لوگ تھے جو عشرہ مبشرہ کے نمونہ کے لوگ تھے ہر ایک اپنے اپنے رنگ میں بے نظیر اور واجب التقلید تھا۔اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنے رحم وکرم کے بادل برسائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقامات دے اور ہمیں ان کی عملی زندگی کی تو فیق۔جماعت کپورتھلہ کے مخلصین کے نام مکتوبات بہت کم ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عشق و محبت کے یہ پروانے ذرا فرصت پاتے تو قادیان پہنچ جاتے اور خط و کتابت کی نوبت ہی نہ آتی۔جہاں ☆ حضرت جاتے یہ ساتھ جاتے تاہم جو تبرکات ان سے حاصل ہوئے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔“ ( صفحہ ۵۲) حضرت عرفانی صاحب کی مراد دیگر بعض پرانے صحابہ کرام کی خط و کتابت سے مقابلہ ہوگی حس ☆