اصحاب احمد (جلد 10) — Page 432
432 (۱۲) دھرمپال کا ارتداد : آپ تحریر کرتے ہیں۔ایک دفعہ ایک شخص نے جبکہ بعد مغرب حضور چھت مسجد پر تشریف فرما تھے۔عرض کیا کہ حضور ایک شخص بقیہ حاشیہ: انہیں تبلیغی خطوط تحریر کرتے رہے۔حافظ محبوب الرحمن صاحب کی شادی ہماری بہن امت الرشید صاحبہ سے والد صاحب نے کرنا چاہی جسے حافظ فضل الرحمن صاحب نے بہت خوشی سے قبول کیا اور خود اور اقارب نے شادی میں شرکت کی۔یہ ۱۹۰۶ ء یا ۱۹۰۷ء کی بات ہے۔اس کے کچھ عرصہ بعد جبکہ شیخ محب الرحمن صاحب قادیان میں قیام رکھتے تھے۔اور قرآن کریم وغیرہ پڑھ رہے تھے۔ان کے ہمراہ حافظ محبوب الرحمن صاحب بھی قادیان چلے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ سیر کو بھی جایا کرتے تھے۔کسی کے عرض کرنے پر کہ یہ محبوب الرحمن صاحب ہمنشی حبیب الرحمن صاحب کے عزیز ہیں اور حافظ قرآن ہیں۔تو حضور وہاں بیٹھ گئے اور حافظ صاحب نے جو خوش الحان قاری تھے حضور کے ارشاد پر قرآن مجید سنایا۔حضور کو قرآت بہت پسند آئی اور وہیں حضور نے فرمایا کہ روزانہ بعد نماز عشاء ہمیں قرآن مجید سنایا کریں قریباً ایک ماہ وہ حضور کو قرآن مجید سناتے رہے۔اور اس دوران حضرت مصلح موعودؓ کے ساتھ بھی ان کے گہرے مراسم ہو گئے تھے اور حضرت مصلح موعود نے ایک دو دفعہ حافظ صاحب کی دعوت طعام بھی کی تھی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اجازت لے کر حافظ محبوب الرحمن صاحب حاجی پورواپس آگئے ان کی اہلیہ ہماری ہمشیرہ شادی کے ایک سال کے اندر بیار ہوکر سترہ اٹھارہ سال کی عمر میں راہی ملک بقا ہو گئیں انسا لله وانا اليه راجعون پھر حافظ محبوب الرحمن صاحب منیجر جائیدادریاست کے دفتر میں بہرائچ میں اہلمد ہو گئے۔اور سلسلہ احمدیہ کے اخبارات خلافت اولیٰ کے آخر تک منگواتے رہے۔لیکن خلافت ثانیہ کی بیعت انہوں نہیں کی۔پھر حاجی پور آ گئے تب ہمیں معلوم ہوا کہ ان کو احمدیت میں اعتقاد نہیں رہا اور خود انہوں نے ہمیں کہہ دیا کہ میرے پیچھے نمازیں نہ پڑھا کرو۔اسی حالت ارتداد میں وہ بہرائچ میں فوت ہو گئے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ہمیشہ بھائی محبت الرحمن صاحب سے حافظ محبوب الرحمن صاحب کی بابت دریافت فرماتے رہتے تھے۔ان کی وفات کے بعد دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ حافظ صاحب کی وفات ہوگئی ہے۔ہماری ہمشیرہ کی وفات کے بعد حافظ صاحب نے اپنے غیر احمدی اقارب میں شادی کر لی تھی ان کی ایک بیٹی مسماۃ ناصرہ صاحبہ سے محترم سید غلام حسین صاحب وٹرنری ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے شادی کر لی تھی اور بعد تقسیم ملک سید صاحب مع اہل وعیال بمقام بھلوال ضلع سرگودھا مقیم ہوئے تھے۔