اصحاب احمد (جلد 10) — Page 411
411 ایک میلا لگا نظر آتا تھا۔جماعت احمدیہ نے نہایت جوش سے استقبال کیا اور سڑک کے کنارے واقع ایک کوٹھی میں آپ کو اتارا گیا۔(۷۰) منشی حبیب الرحمن صاحب تحریر کرتے ہیں کہ دہلی (سے) واپسی پر حضور نے لدھیانہ میں قیام فرمانا تھا۔مجھے اطلاع ہوئی تو میں لدھیانہ تاریخ معینہ پر چلا گیا مگر معلوم ہوا کہ حضور کل کو تشریف لاویں گے۔میرے ایک رشتہ دار وہاں ان دنوں میں منصف تھے ان کے ہاں ٹھہر گیا۔رمضان شریف کا مہینہ تھا۔( دوسرے روز ) میں اسٹیشن پر گیا لیکن ہجوم اس قدر تھا کہ میں قریب نہ پہنچ سکا۔آپ کی گاڑی ( کی بوگی) کاٹ کر علیحدہ کھڑی کر دی گئی تھی۔آپ سوار ہو کر آہستہ آہستہ فرودگاہ کو تشریف لے گئے۔( قلمی کا پی صفحہ ۴۷) ( بیان بوساطت شیخ عبدالرحمن صاحب ) فرودگاہ کے پاس میں حضور کی ٹمٹم کے پاس کھڑا ہو گیا کہ مصافحہ تو کرلوں گا مگر کثرت ہجوم کی وجہ سے میں مصافحہ نہ کر سکا۔حضور یہ کہہ کر کہ کل آٹھ بجے تقریر ہوگی ، اندر تشریف لے گئے۔میں یہ سمجھ کر کہ شاید حضور اب باہر تشریف نہ لائیں گے، اپنی جائے قیام پر چلا آیا بعد میں علم ہوا کہ حضور باہر تشریف لاکر بہت دیر تک احباب میں تشریف فرما رہے تھے۔میں دوسرے روز صبح چھ بجے ہی حضور کی قیام گاہ پر پہنچ گیا اور حضور کی خدمت میں اطلاع کروائی۔حضور دروازہ کے پاس تشریف لائے اور کھڑے باتیں کرتے رہے اور فرمایا آیا ہوا ہوں۔اچھا ہوا آپ تشریف لے آئے“ میں نے گذشتہ روز کی اپنی آمد کا سارا حال کہ سنایا اور عرض کیا کہ میری غلطی تھی ورنہ میں تو پرسوں سے الحکم میں مرقوم ہے کہ لوگوں کا ہجوم ہر وقت رہتا اور زائرین کی آمد کا تانتا بندھا رہتا تھا۔گردونواح کے اضلاع سے بھی بہت سے احمدی آگئے تھے۔جماعت لدھیانہ نے حتی الوسع نہایت قابلیت سے مہمان نوازی کی مگر بالآ خر لوگوں کی کثرت نے اسے بے بس کر دیا۔تاہم جماعت لدھیانہ نے جو کچھ کیا اپنی ہمت اور طاقت سے بڑھ کر کیا۔دوسرے روز کی حضور کی تقریر کے لئے جماعت نے راتوں رات پورے شہر سے اشتہار چھپوا کر چسپاں کر دیے اور پھر علی الصباح تقسیم بھی کر دیئے۔بوقت تقریر ہزاروں افراد کی حاضری تھی۔پولیس کا انتظام نہایت قابل تعریف تھا۔حضرت اقدس نے اپنی تقریر میں فرمایا :- میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ چودہ برس بعد لدھیانہ شہر میں مجھے آنے کا