اصحاب احمد (جلد 10) — Page 408
408 ان احباب کے سوا جو رتھ ، سیکوں اور گھوڑے پر سوارے تھے ذیل کے احباب حضرت اقدس کی سواری کے ساتھ پیدل دوڑتے ہوئے قادیان سے بٹالہ تک آئے۔حضرت کے ہمراہ ان کا دوڑ نا عشق و محبت کا ایک سچا نمونہ تھا۔مولوی سید احمد نور صاحب افغان ، حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کے صاحبزادگان کے اتالیق شیخ (بھائی) عبدالرحیم صاحب، میاں شادی خاں صاحب۔نیز یہ لڑ کے۔عبدالرحمن ، صوفی عبداللہ عبداللہ درزی، میاں مظہر حق۔(44)66 اللہ تعالے ان کی نیکی اور عمر میں برکت دے۔(۶۶) انحام و بدر دونوں اخبارات سے معلوم ہوتا ہے۔کہ حضرت اقدس کی روانگی کی خبر کسی طرح موضع سیکھواں بھی پہنچ گئی تھی ( جو قادیان سے چند میل کے فاصلہ پر ہے ) اس لئے وہاں کے مخلص احباب میاں جمال الدین صاحب اور منشی عبد العزیز صاحب او جلوی پٹواری شرف زیارت کے لئے حضرت کی آمد سے پہلے ہی بٹالہ ریلوے اسٹیشن پر پہنچ گئے تھے۔اور بٹالہ کی جماعت احمد یہ بھی موجود تھی۔اور چوہدری فضل محمد صاحب بیگووال بھی۔حضرت دس بجے ( قبل دو پہر) کے بعد بٹالہ پہنچے۔سٹیشن پر زائرین کا ایک خاصہ اثر دھام ہو گیا۔چوہدری اللہ داد خان صاحب ہیڈ کلرک دفتر ریویو (میگزین ) جو لاہور سے واپس آ رہے تھے۔حضور کی بٹالہ سے روانگی تک ساتھ رہے۔میاں امام بخش صاحب سپاہی چکوال سے قادیان جا رہے تھے ان کی اہلیہ نے بیعت کی۔حضور نے اور احباب نے دوپہر کا کھانا یہیں کھایا۔اور ظہر وعصر کی نماز میں بوجہ سفر جمع کر کے پڑھی گئیں۔حضور ایک مستعد ، ہشیار انسان کی طرح جو انبیاء علہیم السلام کا خاصہ ہے،سفر کرتے ہیں۔مستورات اور بچوں کو خوب احتیاط کے ساتھ گاڑی میں سوار کرانے کے بعد آپ سوار ہوئے آپ کا ڈبہ ریز رو تھا۔جس میں سامان شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے رکھوایا۔بٹالہ سے گاڑی بعد دو پہر ایک بج کر پینتیس منٹ پر روانہ ہوئی آپ نے فرمایا تھا کہ کسی کو روانگی کی اطلاع نہ دی جائے کیونکہ روانگی غیر یقینی تھی اور کئی دفعہ ارادے فسخ ہو چکے تھے اور ایک دفعہ اطلاع دینے کی وجہ سے پھگواڑہ پھلور اور لدھیانہ کے ریلوے اسٹیشنوں پر خدام کئی دن حاضر رہے اور آخر انتظار کے بعد بنگہ (ضلع جالندھر) کی جماعت قادیان ہی آ پہنچی وہ تو حضور کی زیارت سے خوش تھے لیکن حضور ان کی تکلیف کو بہت محسوس کرتے تھے۔اس وجہ سے فرمایا تھا کہ کسی جگہ اطلاع نہ دی جائے۔امرتسر میں گاڑی نے قریباً پانچ گھنےٹھہر نا تھا۔ابھی تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ کپورتھلہ کے احباب جو اخلاص کا ایک خاص نمونہ ہیں ان میں سے منشی ظفر احمد صاحب ہمنشی اروڑا صاحب اور ڈاکٹر فیض قادر صاحب