اصحاب احمد (جلد 10) — Page 403
403 اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو آسمان پر تم اس وقت میری جماعت شمار کئے جاؤ گئے جب بھی سچ تقوی کی راہوں پر قدم مارو گے۔(۵۹) ،، حضرت منشی عبدالرحمن صاحب ( یکے از ۳۱۳ صحابہ ) نے بیان کیا کہ ایک دفعہ طاعون شروع ہونے پر جماعت کپورتھلہ نے حضرت اقدس سے اجازت چاہی کہ ہم قادیان آجائیں حضور نے جواب میں رقم فرمایا :- نہیں۔تم اسی جگہ رہو اور کپورتھلہ کو قادیان کا محلہ تصور کرو ، (۲۰) ،، حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی متابعت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۹۰۲ء میں ہدایت دی تھی کہ سیالکوٹ ، جموں ، وزیر آباد، لائل پور گورداسپور جالندھر لدھیانہ پٹیالہ سرہند بسی وغیرہ وغیرہ مقامات جہاں طاعون ہے وہاں کے احباب عید کے موقع پر ہر گز ہرگز قادیان نہ آویں بلکہ جب تک ان کے شہروں میں طاعون کا دور اور اثر ہے ادھر آنے کی کوشش نہ کریں۔(۱) (41) منشی حبیب الرحمن صاحب طاعون کے سلسلہ میں تحریر کرتے ہیں:۔ایک دفعہ پلیگ کا بہت زور تھا۔سرکار کی طرف سے یہ انتظام تھا کہ جہاں طاعون ہو وہاں کوئی شخص نہ جائے اور نہ وہاں سے کوئی دوسری جگہ جائے اور جہاں طاعون ہوتا تھا لوگوں کو آبادی سے باہر کر دیا جاتا تھا۔اور طاعون زدہ جگہ ( کو ) چھوڑ دیا جاتا تھا۔پھگواڑہ میں طاعون کی شدت ہوئی غالبا ۱۹۰۲ء تھا۔تمام باشندگان شہر آبادی سے باہر گئے۔باہر آئے ہوئے لوگ حاجی پور کی سرحد تک پھیل گئے۔میں نے یہ انتظام کیا تھا کہ نہ کوئی حاجی پور سے اس رقبہ میں جائے اور نہ اس رقبہ کا آدمی حاجی پور میں داخل ہو۔تا ہم ابتدا میں بہت ( سے ) لوگوں نے خواہش ظاہر کی کہ ہم کو حاجی پور میں جگہ دے دو۔چنانچہ بہت سے آدمی تحصیل کے ملازم منشی وغیرہ حاجی پور میں آگئے میں نے ان کو رہائش اور آرام کا انتظام کر دیا۔جب میں نے دیکھا کہ ہر ایک کی یہ ہی خواہش ہے تو میں نے ایک تاریخ مقرر کر دی کہ اس کے بعد کوئی نہ آسکے گا۔یہ لوگ رات کو میرے پاس جمع ہو جاتے تھے۔اور میں ان کو سلسلہ کی باتیں سنایا کرتا تھا۔ان میں ہندو بھی تھے، مسلمان بھی تھے۔” میری طبیعت میں بہت وہم تھا اور ( میں) بہت ہی احتیاط کیا کرتا تھا اور خوفزدہ رہتا تھا۔میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں دعا کے لئے عریضہ لکھا اس کا جواب حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے دیا کہ حضرت نے آپ کے لئے دعا کی۔اس پر میرا قلب مطمئن نہ ہوا۔میں نے پھر حضور کی خدمت بابرکت میں عریضہ لکھا کہ حضور کے ہاتھ کا لکھا ہوا ( جواب ) ہو تو اطمینان ہو۔یہ خط حضرت مولوی صاحب نے حضور کی سامنے پیش کیا تو حضور نے اپنے دست مبارک سے حسب ذیل الفاظ تحریر فرمائے :