اصحاب احمد (جلد 10) — Page 401
401 اقدس یکلخت سجدہ میں چلے گئے۔ساتھ ہی ہم سب خدام بھی سجدہ میں گر پڑے۔سجدہ سے سر اٹھانے پر حضور نے فرمایا کہ ابھی میں نے سرخ الفاظ میں مُبارَک لکھا دیکھا ہے پھر مولوی صاحب نے بقیہ ترجمہ سنایا۔بعد میں خطبہ میں بیان شدہ ایک عربی لفظ کے متعلق دونوں مولوی صاحبان نے عرض کیا کہ اس کی صحت میں کچھ شک ہے۔یہ دراصل یوں ہے۔حضور نے فرمایا کہ مجھ سے اسی وقت کیوں نہ دریافت کر لیا گیا۔لفظ وہی درست ہے جو میری زبان سے نکلا تھا۔حضور کے ارشاد پر ایک لغات دیکھی گئی تو اس سے حضور کا بیان کردہ لفظ نکل آیا۔اس روز عید تو تھی ہی مگر ہم سب اس مبارک دن میں حضور کے ایک معجزانہ نشان کے پورا ہونے پر بہت خوش تھے اور ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرتے تھے۔حضرت اقدس حقیقۃ الوحی میں تحریر فرماتے ہیں۔ار اپریل ۱۹۰۰ء کو عید اضحی کے دن صبح کے وقت مجھے الہام ہوا کہ آج تم عربی میں تقریر کر تمہیں قوت دی گئی اور نیز یہ الہام ہوا كَلَامٌ أَفْصِحَتْ مِنْ لَّدُنُ رَبِّ كَرِيمٍ یعنی اس کلام میں خدا کی طرف سے فصاحت بخشی گئی چنانچہ اس الہام کو اسی وقت۔۔۔بہت سے دوستوں کو اطلاع دی گئی تب میں عید کی نماز کے بعد عید کا خطبہ عربی زبان میں پڑھنے کے لئے کھڑا ہو گیا اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ غیب سے مجھے ایک قوت دی گئی اور وہ فصیح تقریر عربی میں فی البدیہہ میرے منہ سے نکل رہی تھی کہ میری طاقت سے بالکل باہر تھی اور میں نہیں خیال کر سکتا کہ ایسی تقریر جس کی ضخامت کئی جزو تک تھی، ایسی فصاحت اور بلاغت کے ساتھ بغیر اس کے کہ اول کسی کاغذ میں قلمبند کی جائے کوئی شخص دنیا میں بغیر خاص الہام الہی کے بیان کر سکے جس وقت یہ عربی تقریر جس کا نام ” خطبہ الہامیہ " رکھا گیا، لوگوں میں سنائی گئی اس وقت حاضرین کی تعداد شاید دوسو کے قریب ہوگی سبحان اللہ ! اُس وقت ایک غیبی چشمہ کھل رہا تھا۔مجھے معلوم نہیں کہ میں بول رہا تھا یا میری زبان سے کوئی فرشتہ کلام کر رہا تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ اس کلام میں میرا دخل نہ تھا۔خود بخود بنے بنائے فقرے میرے منہ سے نکلتے جاتے تھے۔اور ہر ایک فقرہ میرے لئے ایک نشان تھا۔سی ایک علمی معجزہ ہے جو خدا نے دکھلایا اور کوئی اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتا۔،، (۵۴) (۲) ایک اور نزول الہام کے وقت موجودگی : منشی صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں لدھیانہ گیا تو بعد سہ پہر حضور نے زنانہ مکان میں خاکسار کو بلایا۔کمرہ کے پاس صف پر