اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 391 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 391

391 آپ ہم سے مباحثہ کریں مرزا صاحب کو تو علماء کا فرقرار دینے کا فتوی دے چکے ہیں۔آتھم نے ڈاکٹر کلارک سے کہا کہ مرزا صاحب سے بحث کرنا کوئی آسان نہیں۔بھڑوں کے چھتہ میں ہاتھ ڈالنا ہے۔چنانچہ عذر ہاتھ آنے پر پادریوں نے حضرت اقدس کو لکھا کہ آپ بحث کے لئے آنے کی تکلیف نہ کریں۔آپ اسلام کے نمائندہ نہیں دیگر مسلمان آپ کو کافر کہتے ہیں۔دوسرے مولوی بحث کے لئے آمادہ ہو گئے ہیں۔ہم ان ہی سے بحث کریں گے حضور نے جواب دیا کہ فتاوی کفر کے لحاظ سے ہم دونوں برابر ہیں پروٹسٹنٹ فرقہ کو کیتھولک فرقہ کے لوگ کافر بلکہ واجب القتل یقین کرتے ہیں۔ہم بفضل تعالیٰ مسلمان ہیں اور ایک خدا ترس اور عالم فاضل مسلمانوں کی جماعت ہمارے ساتھ ہے۔میرے ساتھ بحث طے ہونے کے بعد اپنی شکست تسلیم کر لو تو بے شک اور جس سے چاہو بحث کرلو۔سو یہ تحریری مباحثہ پندرہ روز ۲۲ رمئی تا ۵/جون ۱۸۹۳ء ڈاکٹر کلارک کی وسیع کوٹھی میں ہوا۔بذریعہ ٹکٹ فریقین کے صرف پچاس پچاس افراد کو شمولیت کی اجازت تھی۔پرچے لکھے جانے پر سنائے جاتے۔حضرت اقدس کی طرف سے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی لطف و وجد پا کر نہایت عمدگی سے سناتے تھے۔چونکہ احاطہ کے باہر سینکڑوں افراد اس بحث کی وجہ سے جمع ہو جاتے تھے۔اس لئے شیخ نور احمد صاحب فریقین کی اجازت سے روزانہ پرچے افادہ عام کے لئے چھپوا دیتے اور شائقین خرید لیتے تھے۔حضرت اقدس نے یہ لکھوایا کہ ایک عاجز انسان جو عورت کے پیٹ میں نو ماہ رہا اور خون حیض سے پرورش پا کر عام انسانوں کی طرح پیدا ہوا کیا تم اسے خدا مانتے ہو اور کیا وہ خدا ہوسکتا ہے؟ اس پر پادری اٹھ کھڑے ہوئے کہ ہم اپنے خداوند یسوع کے متعلق یہ الفاظ نہیں سننا چاہتے۔مرزا صاحب ہماری گردنوں پر تلوار میں چلا رہے ہیں۔اور مباحثہ چھوڑ کر چلنے کو تیار ہو گئے تو حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ تو اب بھاگیں گے۔میں جو لکھواتا ہوں لکھتے جاؤ۔ڈاکٹر کلارک نے کہا کہ میں تو سمجھتا تھا کہ مسلمانوں میں شور اٹھے گا لیکن الٹا عیسائیوں میں ہی شور پڑ گیا اور عیسائیوں سے کہا کہ بیٹھ جاؤ۔اب تمہارا بھا گنا بے فائدہ ہے۔ایک یہ عجیب بات ہوئی کہ آتھم نے لکھوایا کہ مسیح تمیں برس تک عام انسانوں کی طرح تھا جب اس پر روح القدس نازل ہوا تو وہ مظہر اللہ کہلایا۔اس پر حضرت اقدس نے جوابا لکھوایا کہ ہم بھی تو یہی کہتے ہیں کہ مسیح انسان اور نبی تھا۔جب کسی انسان پر روح القدس نازل ہوتا ہے تو وہ مظہر اللہ یعنی نبی بن جاتا ہے۔یہ بات سن کر عیسائیوں کے رنگ فق ہو گئے اور ڈاکٹر کلارک صاحب اور آتھم صاحب بھی گھبرا گئے۔دوران مباحثہ ایک عجیب واقعہ یہ ہوا کہ عیسائیوں نے خفیہ طور پر ایک اندھا۔ایک بہرہ اور ایک لنگڑ الا کر