اصحاب احمد (جلد 10) — Page 390
390 ممدوح نے بعمر ۹۳ سال ۲۵ رفروری ۱۹۵۷ء کو لندن میں انتقال فرمایا۔(۴۶) ان کے ذہن میں آخر تک اس مقدمہ کے واقعات پوری طرح محفوظ تھے۔اور وہ جب تک زندہ رہے اپنی زندگی کے اس اہم ترین واقعہ کا تذکرہ کرتے رہے اور ہر احمدی ملاقاتی کو اس واقعہ کی تفصیل ضرور سناتے اور نہایت عقیدتمندانہ لب ولہجہ میں کہتے کہ میں نے مرزا صاحب کو دیکھتے ہی یقین کر لیا تھا کہ یہ شخص جھوٹ نہیں بول سکتا۔ایک مرتبہ یوم التبلیغ کی تقریب پر انہوں نے مسجد احمد یہ لندن میں اپنی صدارتی تقریر میں احمدی نو جوانوں کو یہ پیغام دیا کہ ” مجھ سے بار ہا سوال کیا گیا ہے کہ احمدیت کا سب سے بڑا مقصد کیا ہے۔؟ میں اس سوال کا یہی جواب دیتا ہوں کہ اسلام میں روحانیت کی روح پھونکنا۔بانی جماعت احمدیہ نے آج سے پچاس برس پیشتر یہ معلوم کر لیا تھا کہ موجودہ زمانہ میں مذہب اور سائنس کا میلان کس طرف ہو گا۔احمدیت کا ایک مقصد اسلام کو موجودہ زمانہ کی زندگی کے مطابق پیش کرنا ہے۔میں نے جب ۱۸۹۷ء میں بانی جماعت احمدیہ کے خلاف مقدمہ کی سماعت کی تھی اس وقت جماعت کی تعداد چند سو سے زیادہ نہ تھی۔لیکن آج دس لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔پچاس سال کے عرصہ میں یہ نہایت شاندار کامیابی ہے اور مجھے یقین ہے کہ موجودہ نسل کے نوجوان اس کی طرف زیادہ توجہ دیں گے اور آئندہ پچاس سال کے عرصہ میں جماعت کی تعداد بہت بڑھ جائے گی۔(۴۷) بمقام امرتسر مباحثہ آتھم و مباہلہ (۱) مباحثہ آتھم۔پادری ڈا کٹر ہنری مارٹن کلارک جنڈیالہ ضلع امرتسر آئے جہاں زبر دست مسیحی مشن تھا۔اور ایک مسلمان پاندہ کو کہا کہ آپ کے شاگردوں کا مسیحی منادوں کو تنگ کرنا بے فائدہ ہے۔یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ دین حق کونسا ہے۔ایک جلسہ میں مولویوں کو بلا ؤ۔اس بارے میں پاندہ صاحب نے تحریک کی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مباحثہ پر آمادگی ظاہر کی اور پاندہ صاحب اور پادری صاحب کو تحریر کیا کہ اگر جنڈیالہ یا امرتسر یا بٹالہ میں جلسہ ہو تو ہم اپنے خرچ پر آئیں گے کسی پر بوجھ نہیں بنیں گے اور اگر پادری صاحبان آئیں تو ان کا سارا خرچ سفر اور خوراک وغیرہ کا ہمارے ذمہ ہوگا۔پھر پاندہ صاحب نے حضور کی خدمت میں لکھا کہ مولوی صاحبان سفر خرچ اور انعام طلب کرتے ہیں ان میں ذرہ بھر للہیت نہیں۔آپ خالصاً لوجہ اللہ کا م کرتے ہیں میں آپ کو آنے کی تکلیف دیتا ہوں۔نمائندہ میسحیت ڈپٹی آتھم کے ساتھ بحث طے ہونے کا علم ہونے پر بعض مولویوں نے آتھم سے کہا کہ