اصحاب احمد (جلد 10) — Page 389
389 کیپٹن ڈگلس نے مبارک باد دیتے ہوئے پوچھا کیا آپ چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر کلارک پر مقدمہ چلائیں۔اگر چاہتے ہیں تو آپ کو حق ہے حضور نے فرمایا کہ میں کسی پر مقدمہ کرنا نہیں چاہتا۔میرا مقدمہ آسمان پر دائر ہے۔“ پیلاطوس ثانی ولیم ڈگلس نے چونکہ پیلاطوس اول کے برعکس بریت کا فیصلہ دے کر عدل وانصاف کا شاندار کارنامہ دکھایا تھا۔اس لئے حضور نے بھی ان پر خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے متعدد تصانیف میں ان کی بیدار مغزی منصف مزاجی ، مردانگی حق پسندی اور خدا ترسی کی بے حد تعریف فرمائی ہے۔چنانچہ ایک مقام پر حضور نے لکھا ہے : ” جب تک کہ دنیا قائم ہے اور جیسے جیسے یہ جماعت لاکھوں کروڑوں افراد تک پہنچے گی۔ویسی ویسی تعریف کے ساتھ اس نیک نیت حاکم کا تذکرہ رہے گا۔اور یہ اس کی خوش قسمتی ہے کہ خدا نے اس کام کے لئے اسی (۴۵) ،، بقیہ حاشیہ: اور نماز فجر میں حضور سے ملاقات ہوئی صبح ( گویا بوقت ناشتہ ) دس پندرہ انڈے لائے گئے۔حضور نے کئی انڈے توڑے لیکن حضور نے غالباً کل ایک دو ماشہ انڈہ کھا ہو گا۔( دوسروں نے بطور تبرک لے لئے یا حضور نے دوسروں کو دیدیئے۔مولف ہذا) دس بجے کے قریب میں نے عرض کیا کہ حضور ! دس بجنے والے ہیں انگریز وقت کے پابند ہوتے ہیں، چلنا چاہیے۔حضور ایک وکیل کی کوٹھی کے باغ میں قیام فرما تھے۔برسات کا موسم تھا۔پانی ہی پانی تھا۔نماز فجر کے بعد بارش بہت موسلا د ہار ہونے لگی تھی۔میری بات سن کر فرمایا بہت ٹھیک ہے فوراً کھڑے ہو گئے اور پا پیادہ ہی کچہری کو روانہ ہونے لگے اور بارش یکلخت بند ہوگئی یا تو موسلا د ہار بارش تھی۔یا ایک بوند بھی نہ تھی۔حضور کچہری پہنچے ہی تھے کہ عین وقت پر کپتان ڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ آگئے اور مقدمہ کی سماعت شروع ہو گئی۔بارش پھر شروع ہوئی اور چار بجے شام تک ختم ہو کر آئندہ روز کی تاریخ پڑی۔حضور روانہ ہونے کے لئے باہر نکلے تو بار ش پھر بالکل تھم گئی اور آپ جائے قیام پر پہنچ گئے۔حالات مقدمہ سے معلوم ہو گیا تھا کہ فیصلہ ہمارے حق میں ہو گا۔دوسرے روز صرف فیصلہ ہی سنایا جاتا تھا۔میری بڑی لڑکی بیمارتھی میں نے حضور سے اجازت چاہی اور لڑکی کی صحت کے لئے دعا کے لئے عرض کیا۔فرمایا کہ میں دعا کروں گا۔جب میں حاجی پور واپس پہنچا تو لڑکی کو صحت تھی