اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 349 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 349

349 غور کیا کہ روشن دین بہت نیک اور متقی ہے کہ تو بہ کا بہت اثر ہوا۔اور میں اس قدر گنہگار ہوں کہ مجھ پر کچھ اثر نہیں ہوا۔اس وقت میری عمر بیس سال کی تھی یا کچھ زیادہ بہت مدت تک مجھے اپنی اس حالت کا فکر رہا کہ میں بہت گنہ گار ( اور ) نا پاک معلوم ہوتا ہوں اور سخت دل کہ میرے اوپر رقت طاری نہیں ہوئی تھی لیکن ایک عرصہ کے بعد یہ مسئلہ میری سمجھ میں آیا۔اس کے بعد ہم سب کپورتھلہ چلے آئے۔حضرت صاحب قریباً تمام دن باہر بیٹھک میں تشریف رکھتے تھے۔اور ہر وقت وفات مسیح کا ہی تذکرہ رہتا تھا۔اور ( حضور ) دلائل (بیان ) فرماتے تھے۔۔چونکہ والد صاحب مرحوم بیمار تھے اس لئے میں زیادہ نہ ٹھہرا اور چوتھے دن واپس چلا آیا۔ازالہ اوہام ابھی زیرطبع تھا۔“ ( قلمی کا پی۔صفحہ ۲۹ تا ۳۹) * حضرت اقدس کی فراست کا ایک واقعہ منشی صاحب تحریر کرتے ہیں کہ فراست مؤمنین کے تعلق میں۔۔۔۔۔۔عرض کرتا ہوں (کہ) جس دن بفضلہ تعالیٰ شانہ ( میں ) داخل بیعت ہوا، محبوب اور روشن بھی دوسرے دن داخل بیعت ہوئے تھے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خاکسار کو داخل بیعت فرمانے کا تو اسی وقت ارادہ ظاہر فرما دیا تھا اور فرمایا تھا کہ یہ مستقل مزاج معلوم ہوتا ہے۔لیکن (ان) دونوں کے متعلق فرمایا تھا کہ ابھی نہیں کچھ اور سوچیں لیکن ہم نے بار بار عرض کیا تو دوسرے دن ان سے بھی بیعت لے لی۔میرا استقلال تو ظاہر ہے۔اللہ کریم کا ہزار ہزار شکر ہے اور احسان ہے کہ اس نے ہر ایک زلزلہ کے وقت مجھے ہلاکت سے بچایا۔اس زمانہ دراز میں مجھے کبھی شک کا خیال بھی نہیں آیا۔دوسرا محبوب دراصل وہ جوان عمر تھا۔اور مثل درویشوں کے تھا۔لیکن اس کا جلد ہی انتقال ہو گیا۔خدا مغفرت فرمائے۔روشن دین کی تا مرگ یہ حالت رہی کہ بات بات پر اس کو شک ہو جاتا تھا۔پہلے دن کے حالات میں چونکہ حضور زیادہ تر خاکسار سے ہی ہمکلام رہے تھے۔اس نے کپورتھلہ واپس آ کر بیان کیا تھا کہ (حضور ) ☆ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کے مصدقہ مضمون رقم کردہ منشی تنظیم الرحمن صاحب (مندرجہ الحام ۲۸ جولائی ۱۹۳۵ء - صفحہ ۸ کالم۲) میں خلاصہ یہی ذکر ہے کہ حضور نے مہندی لگائی ہوئی تھی۔پلنگ پر تشریف فرما تھے۔منشی ظفر احمد صاحب کے کہنے پر صرف منشی حبیب الرحمن صاحب کی بیعت حضور نے قبول کی اور دوسرے روز دوسرے دو ساتھیوں کے بارے عرض کرنے پر ان کی بیعت بھی حضور نے قبول فرمائی اور پھر ان دونوں (بعد کے بیعت کنندگان) کے ارتداد کا ذکر کیا ہے۔