اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 336 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 336

336 ۱۸۸۶ء) کا ذکر ہے۔اس مکتوب میں حضرت اقدس نے حاجی صاحب پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔اس کے چند دن بعد جنوری ۱۸۸۷ء میں ہی حاجی صاحب نے نہایت عاجزانہ طلب عفو کا خط تحریر کیا ہے۔سوطلب عفوتا وفات جو ۱۸۹۱ء میں ہوئی۔حاجی صاحب حضور کے مصدق رہے چنانچہ حضرت اقدس کے اشتہارات مورخہ یکم دسمبر ۱۸۸۸ء و۱۲ جنوری ۱۸۹۱ء حاجی صاحب نے دونوں بار مسجد میں سنائے حالانکہ حاجی صاحب مخالف اور برگشتہ ہوتے تو وہ خود نہ سناتے۔دوم :- اشتہارات اعلان بیعت و شرائط بیعت اسلام میں ایک عظیم تاریخ ساز ا ہمیت کے حامل ہیں۔حضرت اقدس ایسے اہم اور نازک مرحلہ پر احباب کپورتھلہ میں سے جسے منتخب فرماتے وہ ایسا فرد نہیں ہو سکتا تھا۔جو مخالف ہو اور سلسلہ کے آغاز میں بد باطنی اور شر انگیزی اور نقصان کا باعث بن سکتا ہو۔گویا حضور نے حاجی صاحب کو زمرہ مخالفین میں شامل نہیں سمجھا بلکہ قابل اعتماد افراد میں سے یقین کر کے اشتہارات اعلان بیعت و شرائط بیعت ان کو بھجوائے ( جو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فالج سے اس حد تک افاقہ پاچکے تھے کہ مسجد میں جا کر انہوں نے یہ اشتہارات سنائے) سوحضور کے اعتما دو تو قع پر حاجی صاحب دیانتداری سے پورا اترے وانـــــا الاعتبار بالخواتيم- حضرت اقدس کا ورود تین بار کپورتھلہ میں منشی حبیب الرحمن صاحب تحریر کرتے ہیں: (ایک دفعہ ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کپورتھلہ تشریف لائے۔اور ڈاکخانہ میں ایک مسلمان سب پوسٹ ماسٹر کے مہمان ہوئے اور غالباً ایک دن قیام فرما کر تشریف لے گئے۔عام طور پر لوگ آکر ملاقات کرتے تھے ایک دفعہ اس سے پہلے بھی کپور تھلہ تشریف لائے تھے اور غالبا ایک شب قیام فرمایا تھا۔یہ میں نے حضرت صاحب سے سنا تھا اس کے سوا تیسری دفعہ پھر کپورتھلہ تشریف لائے اس وقت جماعت قائم ہو چکی تھی ہرسہ اسفار کے بارے حضرت عرفانی صاحب تحریر کرتے ہیں کہ :- (قلمی کا پی صفحه ۲۴-۲۵) (1) پہلے سفر کے بارے جو آغاز بیعت سے پہلے حضور نے کیا تھا۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کا بیان ہے کہ۔ایک دفعہ لدھیانہ میں منشی اروڑا صاحب اور میں نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی کہ حضور کبھی کپورتھلہ تشریف لائیں۔حضور نے وعدہ فرمایا کہ ہم ضرور کبھی آئیں گے۔( پھر تاریخ لکھ دی حضور اس وقت نہ پہنچ سکے