اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 309 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 309

309 اور درود شریف ہی تھا۔اگر ایک گھنٹہ کے واسطے اپنے مکان سے کسی جگہ جاتے تو لوٹا اور جائے نماز ضرور ہمراہ جاتا۔جب نماز کا وقت ہوتا۔جہاں ہوتے پہلے نماز ادا کرتے۔“ " (حاجی صاحب نے )۱۸۹۲ء میں ۶۷ سال کی عمر میں انتقال کیا اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اپنی رحمت کا نزول فرمائے۔(۱) منشی حبیب الرحمن صاحب کا بیان ان کی قلمی کاپی کے صفحہ ۱۰۰۹ سے اخذ کردہ ہے۔(ب) بیان منشی کظیم الرحمن صاحب کے لئے دیکھئے الحکم ۷ اگست ۱۹۳۵ء صفحہ ۷ کالم او۲ ( یہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کا مصدقہ ہے۔) اس مضمون میں سابقاً درج شدہ عنوان ” کپورتھلہ کی اہمیت تاریخ سلسلہ احمدیہ میں“ کے تحت یہ ذکر ہے کہ حاجی صاحب وزیر کے عہدہ پر فائز رہے تھے۔لیکن حاجی صاحب کے برادر زادہ اور متنی منشی حبیب الرحمن صاحب کی قلمی کاپی کے بیان میں ان کا سیشن جج ہونا مرقوم ہے۔بزرگ صحابی حضرت منشی فیاض علی صاحب کپور تھلوی کا بیان ہے کہ: ” حاجی ولی اللہ صاحب کپور تھلہ کے حج تھے ( الحکم ۲۱ اکتوبر ۱۹۳۴، صفحہ ۵ کالم ۱) نیز تبلیغ رسالت میں ان کو جج لکھا گیا ہے۔(حوالہ آگے اسی حاشیہ میں درج ہے) حضرت اقدس کے نام حاجی صاحب نے اپنے مکتوب میں جس کی صحیح تاریخ ( جو چند صفحات بعد درج ہے ) ۲ یا ۲۴ جنوری ۱۸۸۷ء ہے ، اپنے آپ کو میشن بج لکھا ہے جس کے ساڑھے چار سال بعد ان کی وفات فالج سے بیمار رہ کر ہوئی۔(ج) حاجی صاحب کی تاریخ وفات معین معلوم نہ ہو سکی لیکن بیان منشی حبیب الرحمن صاحب کے مطابق ان کی اپنی بیعت کے بعد ( جو ۲۵ / مارچ ۱۸۹۱ء کی ہے) قریب کے عرصہ میں حاجی صاحب وفات پاگئے تھے۔تبلیغ رسالت جلد دوم میں مندرجہ اشتہار مؤرخہ ۲۲ را گست ۱۸۹۱ء میں جہاں نام سہؤ اولی محمد صاحب درج ہے مرقوم ہے۔د منشی حبیب الرحمن برادر زادہ حاجی ولی محمد صاحب حج مرحوم ساکن کپورتھلہ ( صفحه ۶۵ حاشیہ) گویا حاجی صاحب کی وفات ۲۵ / مارچ ۱۸۹۱ء اور ۲۲ راگست ۱۸۹۱ء کے درمیانی عرصہ میں واقع ہوئی تھی۔تبلیغ رسالت کا یہ اندراج وفات کے قریب کے عرصہ کا ہوگا۔ایک تہائی صدی بعد قلمی کاپی میںکی گئی تحریر کا یہ حصہ تو صحیح ہے کہ منشی صاحب کی بیعت کے جلد بعد حاجی صاحب کی وفات ہوئی لیکن اس حصہ میں سہو ہے کہ وفات ۱۸۹۲ء میں ہوئی اور اس کی تصحیح تبلیغ رسالت کے اندارج سے ہوتی ہے۔نوٹ :- خاکسار نے ۱۹۸۴ء کے قریب عثمانیہ یونیورسٹی (حیدر آباد کی لائبریری میں ایک بہت قدیم انگریزی کتاب کپور تھلہ کی بابت دیکھی اس کے انڈکس میں حاجی صاحب کا نام بطور حج یا سیشن جج کے درج تھا اور یہ کتاب ان کی وفات سے معاً پہلے یا معا بعد کی ہے۔اس وقت اس بارے میں میری یادداشت سامنے نہیں۔