اصحاب احمد (جلد 10) — Page 310
310 حضرت عرفانی صاحب مکتوبات احمدیہ میں رقم فرماتے ہیں:۔( حاجی صاحب ) صاف گواور دلیر عہدہ دار تھے ریاستی پالیٹکس کے قابل نہ تھے اس لئے وہ ریاست کے وزیر اعظم تو نہ ہو سکے۔مگر یہ واقعہ ہے کہ ریاست کے وزیر اعظم تک ان سے دیتے تھے۔حاجی صاحب کا خاندان ضلع میرٹھ کا ایک معز ز خاندان تھا اور ایک مدبر اور علم دوست خاندان سمجھا جاتا تھا۔(۶) نشی صاحب کا عہد طفولیت اور تعلیمی حالات اُس وقت کے رواج کے مطابق شرفاء کے بچوں کے لئے گھر پر ہی تعلیم کا انتظام ہوتا تھا۔سو آپ نے گھر پر ہی ابتدائی تعلیم پائی۔پھر اپنے بڑے بھائی کے ساتھ حفظ قرآن شروع کیا اور ساتھ کے ساتھ مروجہ علم فارسی اور عربی کی تعلیم بھی حاصل کرتے تھے۔ابھی آپ سات پارے ہی حفظ کر پائے تھے کہ آپ کے تایا حاجی محمد ولی اللہ صاحب نے جو اس وقت سرکار انگریزی میں محکمہ مال میں ڈپٹی کلکٹر کے عہدہ پر متمکن تھے۔آپ کو جو چھ سات سال کے بچے تھے، اپنے پاس بلالیا۔اور پھر رفتار زمانہ کو بھانپ کر ان کو مدرسہ میں داخل کر دیا۔حالانکہ اس وقت مسلمان عام طور پر انگریزی تعلیم کے مخالف تھے۔حاجی صاحب خود انگریزی سے شناسانہ تھے لیکن واسطہ آپ کو زیادہ تر انگریز حکام سے رہتا تھا اور یہ نو جوان انگریزی خوان بطور ترجمان کام آنے لگا ( بیان مولوی محب الرحمن صاحب ) اس طالب علم بچے کو ہر معاملہ میں دور اندیشی کی عادت تھی۔حساب اور معاملہ فہمی کا خاص ملکہ اس کو عطاء ہوا تھا۔آپ بیان کرتے تھے کہ مدرسہ میں حساب، تاریخ ، جغرافیہ وغیرہ کے خلاصے میں خود ہی تیار کر لیتا تھا۔جو مشکل سوال حل نہ ہوتا تو ویسا ہی چھوٹا سا سوال بنا کر میں اسے حل کر لیتا تو مشکل سوال بھی حل ہو جاتا۔آپ چوتھی جماعت میں ہی انگریزی میں مراسلت کے قابل ہو گئے تھے۔مدرسہ کے اوقات کے باہر متعدد اساتذہ آپ کو تعلیم دیتے تھے۔آپ کی صحبت اور میل جول شریف اور نیک بچوں سے تھا۔شریر بچوں سے آپ محتر زرہتے تھے۔اور اساتذہ کی تعظیم کرتے تھے۔اور حق گوئی آپ کا شیوہ تھا۔(۷) آپ نے میٹرک تک تعلیم پائی (جو اس زمانہ میں اچھی معیاری تعلیم تھی ) تکمیل تعلیم پر حاجی صاحب نے آپ کو آموخت ( یعنی کام سیکھنے ) پر لگا دیا۔آپ مشیر مال کی پیشی میں پوری محنت سے کام کرتے تھے۔حاجی صاحب کی وفات پر آپ کو عہدہ تحصیل داری پیش کیا گیا لیکن آپ نے قبول نہ کیا کیونکہ آپ اس مولوی صاحب نے اس انگریز استاد کیپٹن پین (pane) کو دیکھا ہے جو مدرسہ سے فارغ اوقات میں منشی حبیب الرحمن صاحب کو انگریزی کی تعلیم دیتے تھے۔