اصحاب احمد (جلد 10) — Page 294
294 ہوگا۔جناب مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ نے جو حضرت ممدوح کے دوسرے فرزند ارجمند ہیں اس کے جمع فرمانے کا بیڑہ اٹھایا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک حصہ اس مجموعہ کا شائع بھی کر دیا ہے۔جس سے ہر ایک دل میں انشاء اللہ تعالیٰ تحریک پیدا ہوگی کہ وہ اپنی معلومات تحریر میں لا کر جناب میاں صاحب موصوف کے پاس بھیج دے۔“ ” میرے دل میں اس کے ساتھ ہی یہ خیال بھی پیدا ہوا ہے کہ (وہ) صاحب جو اپنی معلومات کو قلم ( بند ) کریں۔اور جناب میاں صاحب کی خدمت میں بھیجیں، اس کے ساتھ ہی کچھ اپنے ذاتی حالات بھی تحریر کریں۔اور یہ بھی تحریر فرماویں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کب بیعت کی اور کس کے ذریعہ (سے) اور جو کوائف اِس نعمت کے حصول میں ان کو برداشت کرنے پڑے مختصراً اور مجملاً اس کا تذکرہ کریں۔اس سے جو کچھ فائدہ ہوگا مجھے اس کی تحریر کی ضرورت نہیں۔درخت اپنے پھلوں سے شناخت کیا جاتا ہے۔یہی وہ پھل ہوں گے جو باغ احمد کے درختوں پر لگے ہوئے ہوں گے۔مجھے خدا تعالیٰ جل شانہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شناخت کی توفیق بخشی اور محض اپنے فضل سے اس نے مجھے یہ راستہ دکھایا اور آپ کی بیعت میں داخل فرما کر اس جماعت مؤمنین میں شامل فرمایا۔الحمد للہ۔آپ کے وصال سے قریب ۱۸ سال قبل میں داخل بیعت ہو چکا تھا۔اس عرصہ میں اگر چہ میں زیادہ عرصہ تک آپ کی صحبت میں نہیں رہا۔تاہم میری آمد و رفت رہتی تھی۔اور جتنے دن رہتا قریب تر رہتا تھا۔مجھے افسوس ہے کہ میں نے اس وقت کی قدر نہیں کی۔اور اپنی معلومات کو تحریر میں نہیں لایا اگر تحریر کیا بھی تو بے قاعدہ اور وہ بھی محفوظ نہیں رہا البتہ وہ سب دماغ میں موجود ہیں۔انشاء اللہ تعالے میں کوشش کروں گا کہ وہ سب تحریر میں آجائیں گو تاریخ ساتھ نہ دے سکوں۔اب میں مختصراً اپناذاتی حال لکھ کر کہ جس سے معلوم ہو سکے کہ میں کون ہوں اور دنیا کے کون سے کونہ میں میرا مسکن ہے۔اور کس خاندان سے میرا تعلق ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعارف کی وجہ اور واسطہ اور پھر آپ کے دعوای مسیحیت پر ایمان لانے کا حال تحریر کروں گا۔اس کے بعد وہ واقعات اور حالات عرض کروں گا جو میں نے حضرت سے سنے یا دیکھے۔بطور یادداشت میں یہ بھی عرض کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ ابتداء مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکتوبات جمع کرنے کا شوق ہوا۔جس قدر میں جمع کر سکا اس جملہ کتاب میں خوشخط لکھوائے وہ کتاب آخرش میرے قبضہ سے نکل گئی اور دفتر الحکم میں پہنچ گئی۔یہ تمام مکتوبات رفتہ رفتہ اخبار الحکم میں شائع ہو گئے۔مجھے مکتوبات جمع کرنے کا پھر شوق ہوا۔اس لئے میں نے بہت سے مکتوبات حضرت مسیح