اصحاب احمد (جلد 10) — Page 263
263 پھر جہلم کے اسٹیشن پر تو کچھ نہ پوچھو۔نہ معلوم کہاں کہاں سے لوگ حضور کی زیارت کو اسٹیشن پر آئے ہوئے تھے پلیٹ فارم بھرا ہوا تھا۔جہلم کی جماعت نے حضور کے لئے ایک کوٹھی لی ہوئی تھی۔ہم بھی اس میں ٹھہرے تھے ہمارے تینوں کے بستر پاس ہی تھے۔حضور کے واسطے جب کھانا آیا۔تو اور بھی بہت سے دوست حضور کے ساتھ کھانے میں شامل تھے۔کھانے میں قورمہ۔روٹی اور ایک لگن ( تھال) پلاؤ کی بھری ہوئی تھی۔حضور نے پلاؤ نہیں کھایا۔شور بے میں روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے لگا کر تناول فرمائے۔کسی دوست نے عرض کیا کہ حضور کچھ پلاؤ بھی تبر کا تناول فرمائیں تب حضور نے تبر کا تھوڑے سے چاول تناول فرمائے۔باقی پلاؤ ہم سب نے تبر کا تقسیم کر لیا۔احاطہ کچہری میں حضور کرسی پر بیٹھے رہتے تھے اور لوگ فرش پر اور چاروں طرف حلقہ کی صورت میں کھڑے ہوتے۔حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب شہید حضور کی کرسی کے قریب بالکل پاس ہی فرش پر بیٹھے رہتے تھے۔ایک دفعہ حضور فارسی زبان میں حضرت سید عبداللطیف صاحب سے گفتگو فرما رہے تھے ایک دوست نے عرض کیا کہ حضور اردو میں بھی فرمائیے تا ہم سب بھی مستفید ہوں۔حضور نے فرمایا کہ مسلمانوں کے سب فرقے جس مہدی کا انتظار کر رہے ہیں وہ میں ہوں۔اگر ہم شیعہ صاحبان کو کہیں کہ تمہاری روایتیں صحیح ہیں اور اسی طرح حنفیوں کو کہیں کہ تمہاری روایتیں صحیح ہیں تو یہ منافقت ہوگی۔مسلمانوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ مہدی حکم و عدل ہوگا سب کی غلطیاں وہ بتائے گا اس وجہ سے سب فرقے دشمن ہو گئے ورنہ ہم نے ان کا کیا نقصان کیا ہے۔ایک دفعہ وہاں کچہری میں مولوی ابراہیم سیالکوٹی حضور کے خلاف بڑے زور سے شور کر رہا تھا۔حضور نے دریافت فرمایا کہ یہ کون ہے عرض کیا گیا کہ مولوی ابراہیم سیالکوٹی ہے فرمایا۔جاؤ ہماری کتاب اس کو دے آؤ جو غالباً مواہب الراحمین تھی۔حضور نے فرمایا کہ اگر میں اس بات پر قسم بھی کھا کر کہوں کہ میرے ذریعہ پچاس ہزار معجزے اللہ تعالیٰ نے ظاہر کئے تب بھی جھوٹ نہ ہوگا۔ہر ایک پہلو سے ہم پر اللہ تعالیٰ کی تائیدات کی بارش ہو رہی ہے عجیب تر ان لوگوں کے دل ہیں جو ہم کو تقی کہتے ہیں مگر وہ کیا کریں ولی را ولی سے شناسد۔کوئی تقویٰ کے بغیر ہمیں کیونکر پہچانے۔رات کو چور چوری کے لئے نکلتا ہے راہ میں کسی گوشہ کے اندر کسی ولی کو دیکھے جو عبادت کر رہا ہو تو وہ یہی سمجھے گا کہ یہ بھی میری طرح چور ہوگا۔ایک دن حافظ عبدالعزیز صاحب اور خاکسار شہر جہلم میں پھرتے پھرتے ایک ہوٹل میں چائے پینے بیٹھ گئے۔وہاں اور لوگ بھی جو غیر احمدی تھے بیٹھے ہوئے تھے اور آپس میں حضرت مسیح موعود کے متعلق گفتگو کر رہے تھے