اصحاب احمد (جلد 10) — Page 264
264 ایک اچھے خاصے خوش پوش غیر احمدی نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے پنچابی میں کہا کہ کرم دین بڑا بے وقوف ہے۔مقدمہ کر کے ( حضرت ) مرزا صاحب کو جہلم بلایا دیکھو کئی سو بندے مرزائی ہو گئے اور ابھی بڑی تیزی سے لوگ مرزائی ہوئے جارہے ہیں۔اگر ایک بار پھر مرزا صاحب جہلم آئے تو جہلم میں اہل سنت والجماعت کا ایک فرد بھی نظر نہیں آئے گا۔۵۵۔(از مولوی صاحب موصوف )۔حضرت مسیح موعود کا معمول تھا کہ نماز کے بعد ا کثر مسجد میں تشریف فرما ہوتے تھے۔اور کچھ فرماتے ایک دفعہ تقریر فرماتے ہوئے فوراً حضور علیہ السلام اُٹھ کھڑے ہوئے سیڑھیوں سے اتر کر جلدی جلدی مدرسہ احمدیہ میں سے ہو کر ڈھاب کی طرف چلے جس طرف عبدالکریم وغیرہ مستریوں کے مکان تھے بڑی ڈھاب میں کچھ چھوٹے لڑکے چھ سات برس کے نہار ہے تھے اور پانی میں کھیل رہے تھے ایک چھوٹا لڑکا کھیلتا ہوا پانی میں چلا گیا۔اور ڈوبنے لگا۔حضور علیہ السلام کو شفی طور پر معلوم ہوا کہ بچہ ڈوب رہا ہے اس لئے حضور نے باہر نکالا اور پھر واپس آئے۔تقریر فرماتے ہوئے آپ کو اللہ تعالیٰ نے بتایا۔اکثر دفعہ آپ کو اپنے مریدوں میں بیٹھے ہوئے بھی الہام ہوتا رہا ہے۔“ ۵۶ - ( از شیخ رحمت اللہ صاحب ) حضرت شہید صاحب کو جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام الوداع کہنے کے لئے موضع ڈلہ کے موڑ یا کنویں تک تشریف لے گئے تو میرے سامنے کی بات ہے کہ انہوں نے حضور کے قدم مبارک پکڑ لئے ( یا فرط محبت سے حضور کے قدموں میں گر گئے۔چونکہ حضور ایسی تعظیم نا پسند فرماتے تھے اس لئے ان کو اٹھنے کے لئے کہا لیکن چونکہ وہ نہ اٹھے ) حضور نے فرمایا۔الامر فوق الادب۔تو وہ فوراً کھڑے ہو گئے حضور نے فرمایا آپ کچھ اشتہار اپنے ہمراہ لے جاتے۔تو انہوں نے عرض کی کہ میرے خون کے اشتہار نہ پہنچیں گے۔شیخ صاحب کہتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کو بوجہ صاحب الہام ہونے کے علم تھا کہ ان کو شہید کر دیا جائے گا۔جملے ۵۷۔( از حاجی غلام احمد صاحب) مسجد مبارک میں ایک نو وارد شخص حضور سے باتیں کرتا تھا اس وقت حضرت عبداللطیف صاحب شہید موجود تھے۔اور نو وارد اثنائے گفتگو میں کہنے لگا کہ دعویٰ مسیح و مہدی ہونے کا۔زبان سے حق ادا نہیں ہو سکتا آپ نے فرمایا میری سچائی کی یہی علامت ہے کہ اس کی زبان میں دباؤ ہوگا۔(108) خطوط وحدانی کے الفاظ خاکسار مولف نے تکمیل کی خاطر زائد کئے ہیں۔اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں:۔