اصحاب احمد (جلد 10) — Page 248
248 کہا کہ گنے میں آپ کے گھر چھوڑ آتا ہوں۔کوئی دو بجے بعد دو پہر ایک بادل ظاہر ہوا۔اور دیکھتے دیکھتے سارے آسمان پر چھا گیا اور خوب زور سے بارش ہوئی۔اور اسی وجہ سے مجھے بھی رات قادیان ہی میں ٹھہر نا پڑا۔۔۱۳ ( از شیخ صاحب موصوف ) ایک دفعہ حضور سیر سے واپس آرہے تھے۔ہم حضور کے ہمراہ تھے۔ایک شخص کو حضور کا منتظر پایا۔وہ بے تحاشا حضور کی طرف دوڑا اور حضور کے قدم پکڑ نا چاہے۔حضور نے اسے پکڑا اور سیدھا کھڑا کر کے پوچھا کہ کیا بات ہے۔اس نے کہا کہ میری زندگی موت سے بدتر ہے۔آپ دعا کریں کہ مجھے اس زندگی سے نجات مل جائے۔حضور نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔کہ خدا نے تو مجھے زندہ کرنے کے لئے بھیجا ہے۔مارنے کے لئے نہیں۔میں آپ کی صحت کے لئے دعا کروں گا۔وہ شخص مرگی کے مرض میں مبتلا تھا۔اس کے بعد وہ بیس دن قادیان میں ٹھہرا رہا لیکن اس پر مرض کا حملہ نہیں ہوا۔پھر وہ بیعت کر کے گیا۔بعد ازاں دو سال تک کبھی نہ کبھی اس سے ملنے کا اتفاق ہوتارہا۔اور وہ یہی بتا تا تھا کہ اس کے بعد مجھ پر اس مرض کا حملہ نہیں ہوا۔۱۴۔(از شیخ صاحب موصوف ) میری اہلیہ کو جب پہلا بچہ پیدا ہونے والا تھا۔تو زچگی کے دوران میں عورتوں سے کچھ بے احتیاطی ہوگئی۔اور ہوا لگنے کی وجہ سے بچہ اندر ہی فوت ہو گیا۔اور اسے شیخ کے دورے پڑنے لگے۔میں نے ایک رقعہ کے ذریعے سارا حال حضور کی خدمت میں عرض کیا۔حضور نے ایک انگریزی دوائی وائی برنم ! پر کاک“ لکھ کر دی اور فرمایا اس کے پانچ پانچ قطرے پانچ پانچ منٹ کے بعد پلائے جائیں بچہ خارج ہو جائے گا۔میں نے وہ دوائی اپنی اہلیہ کو پلائی اس سے بچہ تو خارج ہو گیا۔لیکن تشنج کے دورے بدستور قائم رہے۔اگلے دن جب حضور صبح کو سیر پر جانے لگے تو میں نے یہ خیال کر کے کہ الہی مرسل و مامور کی ہر چیز برکت والی ہوتی ہے۔اور میری نیت شرک کی نہیں۔جب حضور نے سیر کے لئے پہلا قدم اٹھایا تو وہاں سے خاک پالا کر تیل میں ملا کر مالش کرنی شروع کی اور ساتھ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم پڑھتا گیا۔پہلے تو بیہوش تھیں اور شیخ کا دورہ شدید تھا اب بفضلہ تعالیٰ ہوش آنا شروع ہوا۔اور چند منٹ میں مجھ سے باتیں کرنے لگیں۔۱۵۔( از ڈاکٹر عطرالدین صاحب) مجھے ۱۸۹۸ء سے ۱۹۰۸ء میں حضرت مسیح موعود کے وصال تک قریبا دس سال حضور کی زیارت کے مواقع حاصل ہوئے۔۱۹۰۰ء سے ۱۹۰۷ ء تک تمام سالانہ جلسوں میں شمولیت کی ۱۹۰۱ء سے اوائل ۱۹۰۶ ء تک قادیان میں تعلیم پائی۔مسجد مبارک کا راستہ بند کرنے کے لئے حضور کے اقارب