اصحاب احمد (جلد 10) — Page 239
239 آپ کو یہ شدید احساس ہوا کہ میں نے ۱۸۹۱ء میں کیوں نہ بیعت کر لی۔اور تلافی مافات کے طور پر آپ نے تیرہ سال تک شدید مجاہدات کیے۔آپ ہر ماہ قادیان پنتالیس میل کا سفر پیدل کر کے آتے اور حضرت اقدس کی صحبت میں دو ہفتے قادیان میں قیام کرتے۔جس کے نتیجہ میں قرآن مجید کے معارف آپ پر کھلے اور اس کا فہم عطا ہوا۔الى مدد: مَنْ كَانَ للَّهَ كَانَ الله لَهُ کا ایک عجیب واقعہ ہے۔کہ حضرت خلیفہ اول نے رمضان شریف میں سارے قرآن مجید کا درس دینا تھا۔ادھر بھائیوں کی طرف سے یہ اطلاع ملی کہ والد مرحوم کی جائیداد کے انتقال کے لئے فلاں روز پہنچنا ضروری ہے آپ نے سوچا کہ اس طرح تین دن صرف ہو کر تین سپارے کے درس سے محروم رہ جائیں گے۔ان کو اطلاع دی کہ میں قادیان درس قرآن میں شمولیت کے لئے جارہا ہوں۔خواہ میرے نام انتقال ہو یا نہ ہو۔تحصیلدار بندوبست کی آنکھیں اس خط کو دیکھ کر پر آب ہوگئیں۔اور اس نے کہا کہ ایمان تو ایسے لوگوں کا ہے۔میں مسل دبا رکھتا ہوں۔مولوی صاحب کے آنے پر مہتم بندو بست کے پیش کروں گا۔ہجرت پاکستان:۔تقسیم ملک کے حالات سب پر واضح ہیں۔آپ کو بھی احباب جماعت کی طرح یکم اکتو بر ۱۹۴۷ء کو ہجرت کرنی پڑی پہلے آپ کا قیام اپنے بیٹے کیپٹن ڈا کٹرمحمد اسحاق صاحب کے ہاں ماڈل ٹاؤن لاہور میں رہا۔پھر آپ بالقاء ربانی ربوہ منتقل ہو گئے۔جہاں سید نا حضرت صاحب کی خاص شفقت سے آپ کو رہائش کے لئے ایک پکا کوارٹر دیا گیا۔دعاؤں کی قبولیت : اللہ تعالیٰ کا خاص فضل آپ پر ہوا کہ مجاہدات کو اللہ تعالیٰ نے قبول کر کے آپ کی دعاؤں کو قبول کرنا شرع کیا۔اور رویا وکشوف کا سلسلہ جاری ہو گیا۔اور آنحضرت اللہ ، حضرت مسیح موعود حضرت جبریل۔حضرت عائشہ اور بزرگوں کی زیارت ہوئی۔چند واقعات ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔حضرت مولوی شیر علی صاحب نے ۱۹۳۹ء میں آپ کو کہا کہ میری نواسی رقیه بیگم ( جواب حضرت مولانا بقا پوری صاحب کی بہو ہیں ) تپ محرقہ سے بیمار ہیں۔آج رات مجھے الہام ہوا ہے کہ آپ سے دعا کراؤں۔چنانچہ دعا کے نتیجہ میں مولانا بقا پوری صاحب کو صحت کے متعلق الہام ہوا۔اور موصوفہ کو اللہ تعالیٰ نے صحت یاب کر دیا۔۱۹۳۰ء میں آپ کی اہلیہ کو جن کو بچہ ہونے والا تھ بار بارتپ محرقہ ہونے لگا۔لیڈی ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ اگر اہلیہ کی زندگی مطلوب ہے تو اسقاط حمل کرا دیا جائے۔لیکن مولانا صاحب نے استخارہ کے بعد الہام سے اطمینان