اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 240 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 240

240 پا کر اس سے انکار کر دیا۔بعد ازاں آپ کو معالج ڈاکٹر کا تار پہنچا اور آپ سندھ سے آئے اور سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں تار دیا اور خط لکھا۔حضور نے رفقاء سفر سمیت دعا کی اور اطلاع بھجوائی کہ میں نے دعا کی ہے اور انشاء اللہ بچ جائیں گی۔معالج نے ایک شام کو بتایا کہ وہ آج کی رات بمشکل زندہ رہیں گی۔ان کی نبضیں چھوٹ رہی تھیں اور آنکھوں میں کھچاوٹ پیدا ہوگئی تھی۔آپ نے ان سے کہا تھا کہ ایسی حالت میں مجھے اطلاع کردیں۔تا میں اضطراب کے ساتھ دعا کر سکوں۔حضرت مولوی صاحب نے نہایت اضطراب سے دعا کرنی شروع کی۔اور درگاہ الہی میں عرض کی کہ پہلے میری لڑکی فوت ہوگئی اور اب میراگھر تباہ ہو رہا ہے تو آواز آئی ”ہم تو اچھا کر رہے ہیں۔آپ نے جا کر دیکھا تو ان کی نبض لگی تھی۔گو آہستہ تھی پھر کروٹ بدلی اور منہ کے قریب کان کیا تو ”پانی کی آواز آئی۔آپ نے پانی پلایا۔پانچ منٹ کے اندر حالت بہت سدھر گئی اور صبح معالج آئے تو وہ اُٹھ کر بیٹھی ہوئی تھیں۔66۔1911ء میں چک ۹۹ شمالی سرگودھا کے چار صحابی ایک عورت کے اغوا کے مقدمہ میں پانچ مجرم غیر احمد یوں کے ساتھ ناحق شامل کر لئے گئے۔اور متعصب تھانیدار نے ناجائز طور پر مواد جمع کر کے مجسٹریٹ پر اثر ڈالا۔اس نے کہا کہ سب کو سات سات سال کی قید دوں گا۔اور ایک پیشی پر مجسٹریٹ نے کہا کہ کل نو ہتھکڑیاں لائی جائیں۔اور ان سب کو جیل میں چکیاں دی جائیں گی (یعنی قید با مشقت ہوگی ) کل میں فیصلہ سناؤں گا۔حضرت مولوی صاحب کو دعا کے بعد بشارات ہوئیں۔بعد میں معلوم ہوا کہ مجسٹریٹ کے بیٹے کو کسی نے بتایا کہ چند شریف آدمیوں کا مقدمہ تمہارے والد کے پاس ہے وہ بے گناہ ہیں۔اس نے والد کو بتایا۔ان کی تسلی ہوئی اور اس نے اپنے ناظر کو کہہ کر مسل میں تبدیلیاں کر دیں۔دوران مقدمہ میں وکیل کو غیر احمد یوں نے کہا۔کہ احمدی راستبازی کو ترک نہیں کریں گے۔۔ان کے مولوی صاحب ان کو کہیں تو شائد مان جائیں۔مولا نا بقا پوری صاحب کو بلایا گیا تو آپ نے وکیل کو کہا کہ جان بچانا نہیں بلکہ ایمان بچانا فرض ہے میں ہمیشہ یہ وعظ کرتا ہوں کہ جھوٹ بولنا لعنتوں کا کام ہے۔اب کس طرح کہہ سکتا ہوں کہ احمدی اپنے بیان میں جھوٹ بولیں۔وکیل نے کہا کہ پھر سب جیل جائیں گے۔مولوی صاحب نے کہا کہ قید کیا چیز ہے بے ایمانی کی زندگی سے موت بہتر ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی تکالیف رفع ہونے۔آپ کے صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کی امتحان آئی۔سی۔ایس میں کامیابی، شیخ نیاز محمد صاحب مرحوم انسپکٹر پولیس کی مقدمات میں بریت۔اور آخری پیشی پر ایک غیر احمدی نے ہی احمدیوں کے حق میں اور غیر احمدیوں کے خلاف گواہی دی اور مجسٹریٹ نے ان احمدیوں کو بری کر دیا۔