اصحاب احمد (جلد 10) — Page 95
95 حضرت خلیفہ اول نے بیعت کر لی ہے احباب بہت جلد بیعت سے مشرف ہوں۔پون صد کے قریب جن احباب کی طرف سے یہ اعلان ہوا تھا ان میں چوہدری غلام احمد پریزیڈنٹ انجمن احمد یہ کر یام ضلع جالندھر کا نام نامی بھی شامل تھا۔(27) آپ بیعت کر کے واپس گئے اور احباب جماعت سے فوری طور پر بیعت کے خطوط لکھوا دئیے اور اس طرح ایسے نازک وقت میں اپنی جماعت کو تفرقہ سے بچالیا۔ایک اشتہار جو شرائط کے متعلق مخالفین خلافت کے افتراؤں کی تردید میں ۲۱/۳/۱۴ کو حضرت نواب محمد علی خانصاحب اور حضرت مولوی شیر علی صاحب کی طرف سے شائع ہوا تھا اس کی پشت پر صد روسیکرٹری صاحبان وغیرہ ڈیڑھ صد احباب کی طرف سے احباب کو بیعت کی تحریک کی گئی تھی۔اس میں بھی ” چوہدری حاجی غلام احمد صاحب کر یا م سیکرٹری انجمن احمدیہ کے الفاظ میں آپ کا نام موجود ہے۔۱۱۲ پریل کو خلافت کی تائید میں جو شوری طلب کی گئی تھی اس میں بھی آپ شامل ہوئے تھے۔ہے (۲) تعمیر مسجد احمدیہ : انتضار پر کہ میرے پاس روپیہ موجود ہے مجاور تعیر مسجد میں سے کونسا کام پہلے سرانجام دوں۔حاجی صاحب کو حضرت خلیفہ اسی اول نے یہ مشورہ دیا کہ آپ پہلے حج کریں۔چنانچہ آپ نے پہلے حج کیا۔احباب جماعت آپ کے مکان کی بیٹھک میں باجماعت نماز ادا کرتے تھے اور یہ جگہ نا کافی تھی۔اس لئے آپ نے مسجد کی تعمیر کا عزم کر لیا۔لیکن بڑی تگ و دو کے بعد اس کے لئے نصف کنال مناسب جگہ ملی جو ایک مسلمان کی کسی ہندو کے پاس رہن تھی۔آپ نے ہندو دوست سے کہا کہ میں زرر ہن ساڑھے تین صد روپیہ آپ کو ادا کر دیتا ہوں اور مزید برآں ہم نصف کنال سفید جگہ بھی اس مسلمان کو دوسرے مقام پر دیدیتے ہیں آپ اسے آمادہ کر لیں۔چنانچہ وہ مسلمان مان گیا اور معاہدہ ہو گیا لیکن بعض مخالفین کی انگیخت پر اس مسلمان کے ورثاء کی طرف سے حق شفع کا مقدمہ دائر کر دیا گیا۔مجسٹریٹ نے اپنی فراست سے اصل حقیقت معلوم کر لی۔اور مخالفین کا دعوی خارج کر دیا۔۱۹۱۵ء میں وہاں تعمیر شروع ہوئی۔حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی سے سنگ الحکم ۲۱/۴/۱۴ اس شوری کی تفصیل گذشتہ جلدوں میں درج ہو چکی ہے کل ایک صدنوے نمائندگان تھے آپ کا نام ”حاجی چوہدری غلام احمد صاحب سیکرٹری انجمن احمد یہ کر یام مضلع جالندھر درج ہے۔