اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 83 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 83

83 کرم دین بھیں والے کے مقدمہ گورداسپور میں خاکسار حضور کے ساتھ گیا تھا۔حضور یکہ پر سوار ہو کر بٹالہ تشریف لے گئے پھر بٹالہ سے ریل کے ذریعہ گورداسپور۔ان دنوں قادیان میں حضور کو الہام ہوا۔"يَوْمُ الاثْنَيْنِ وَ فَتْحُ الْحُنَينِ “۔میں نے حضور کی زبان مبارک سے نہیں سنا مسجد میں ذکر تھا کہ حضور کو الہام ہوا ہے۔( ذکر حبیب از حاجی صاحب مندرجہ الفضل مورخه ۲۳/۶/۳۸) بقیہ حاشیہ صفحہ سابقہ:۔مطابق مغرب کے بعد بیعت ہوئی۔اور بیعت قادیان آنے کے چار پانچ روز بعد ہوئی۔اور الہام مذکورہ بالا آپ نے قادیان میں سنا تھا گویا انداز آ آپ کا قیام یکم فروری تا ۷ افروری ۱۹۰۳ء ثابت ہوتا ہے۔متوقر الحکم میں ۵ فروری کی ڈائری سے ایک حصہ“ کے زیر عنوان مرقوم ہے۔" آج کل زمانہ بہت خراب ہورہا ہے قسم قسم کی شرک بدعت اور خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں۔بیعت کے وقت جوا قرار کیا گیا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھونگا۔یہ اقرار خدا کے سامنے اقرار ہے اب چاہیئے کہ اس پر موت تک خوب قائم رہو۔ورنہ سمجھو کہ بیعت نہیں کی۔اور اگر قائم رہو گے تو اللہ تعالیٰ دین دنیا میں برکت دے گا۔اپنے اللہ کے منشاء کے موافق پوری پوری تقویٰ اختیار کرو۔زمانہ نازک ہے قہر الہی نمودار ہو رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق اپنے آپ کو بنالے گا۔اور اپنی جان اور اپنی آل و اولا د پر رحم کرے گا۔دیکھو انسان روٹی کھاتا ہے جب تک سیری کے موافق پوری مقدار نہ کھا لیوے تو اس کی بھوک نہیں جاتی اگر وہ ایک بھورہ روٹی کا کھاوے تو کیا وہ بھوک سے نجات پائے گا؟۔ہرگز نہیں اور اگر وہ ایک قطرہ پانی کا اپنے حلق میں ڈالے تو وہ قطرہ اسے ہرگز بچانہ سکے گا۔بلکہ باوجود اس قطرے کے وہ مرے گا۔حفظ جان کے واسطے وہ قدر محتاط جس سے زندہ رہ سکتا ہے جب تک نہ کھاوے اور نہ پیوے نہیں بچ سکتا۔یہی حال انسان کی دینداری کا ہے جب تک اس کی دینداری اس حد تک نہ ہو کہ سیری ہو۔بچ نہیں سکتا۔دینداری۔تقویٰ۔خدا کے احکام کی اطاعت کو اس حد تک کرنا چاہئے جیسے روٹی اور پانی کو اس حد تک کھاتے اور پیتے ہیں جس سے بھوک اور پیاس چلی جاتی ہے۔خوب یا درکھنا چاہئے کہ خدا کی بعض باتوں کو نہ ماننا اس کی سب باتوں کو ہی چھوڑ دینا ہوتا ہے۔اگر ایک حصہ شیطان کا ہو اور ایک خدا کا تو خدا کہتا ہے کہ سب ہی شیطان کا ہے اللہ تعالیٰ حصہ داری کو پسند نہیں کرتا۔یہ سلسلہ اس کا اسی لئے ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی طرف آوے۔اگر چہ خدا تعالیٰ کی طرف آنا بہت مشکل ہوتا ہے اور ایک قسم کی موت ہے مگر آخر زندگی بھی اسی میں ہے جو اپنے اندر سے شیطانی حصہ نکال کر باہر پھینک دیتا ہے۔وہ مبارک انسان ہوتا ہے اور اس کے گھر اور نفس اور شہر سب جگہ اس کی برکت پہنچتی ہے لیکن اگر اس کے حصہ میں ہی تھوڑا آیا ہے تو وہ برکت نہ بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر